اہم ترین

ٹرمپ کی تقریب میں فائرنگ: وہی ہوٹل اور گولیوں کی گونج؛ تاریخ نے خود کو دہرا دیا

وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں فائرنگ کا واقعہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ تاریخ کی ایک خوفناک یاد کو تازہ کر گیا۔ یہ واقعہ ہلٹن ہوٹل میں پیش آیا، یہ وہی مقام ہے جہاں 1981 میں امریکی صدر رونلڈ ریگن پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 30 مارچ 1981 کو اس وقت کے امریکی صدر رونلڈ ریگن ایک تقریب سے خطاب کے بعد ہوٹل سے باہر نکل رہے تھے کہ اچانک جان ہنکلے جونیئر نامی شخص نے ان پر فائرنگ کر دی۔

ایک گولی لیموزین سے ٹکرا کر ریگن کے جسم میں جا لگی، جس سے ان کی پسلی ٹوٹ گئی اور پھیپھڑا متاثر ہوا۔ شدید زخمی حالت میں انہیں فوری طور پر جارج واشنگٹن یونیورسٹی اسپتال کیا گیا، جہاں کئی دن زیر علاج رہنے کے بعد وہ صحتیاب ہوئے۔

اس حملے میں صرف صدر ہی نہیں بلکہ اُس وقت کے پریس سیکریٹری جیمز بریڈی بھی شدید زخمی ہوئے۔ ان کے سر پر گولی لگی جس کے باعث وہ ساری زندگی معذوری کا شکار رہے اور بالآخر 2014 میں انتقال کر گئے۔ اس کے علاوہ ایک سیکرٹ سروس اہلکار اور ایک پولیس افسر بھی زخمی ہوئے تھے۔

حملہ آور کو ذہنی مریض قرار دے کر سزا سے مستثنیٰ قرار دیا گیا اور اسے سینٹ ایلزبتھ اسپتال کے سخت سیکیورٹی یونٹ میں رکھا گیا، جہاں سے اسے 2016 میں رہائی ملی۔

آج بھی اس ہوٹل کی دیوار پر ایک یادگاری تختی نصب ہے، جو اس ہولناک واقعے کی گواہی دیتی ہے اور آج کی فائرنگ نے ایک بار پھر اسی مقام کو خبروں کی سرخی بنا دیا ہے۔

پاکستان