ایرانی وزیر خارجہ کا 48 گھنٹوں کے دوران پاکستان کا دوسرا دورہ

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اومان کے دورے کے بعد ایک بار پھر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ پاکستان کی قیادت کے ساتھ خطے کی موجودہ صورتحال، جنگ بندی اور سفارتی پیش رفت پر بات چیت کریں گے۔

اسلام آباد واپسی سے قبل عباس عراقچی نے قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان بن جاسم الثانی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ اس گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے جنگ بندی سے متعلق پیش رفت اور اسے مستحکم بنانے میں درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق انہوں نے قطری قیادت کو ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران تنازع کے پرامن حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے۔

اس سے قبل عباس عراقچی نے اسلام آباد میں وزیر اعظم شہباز شریف اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں میں بھی ایک “قابلِ عمل فریم ورک” پر بات کی تھی، جس کا مقصد ایران کے خلاف جاری کشیدگی کو مستقل طور پر ختم کرنا ہے۔

دوسری جانب صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے نمائندوں کا مجوزہ دورہ پاکستان منسوخ کر دیا۔ یہ فیصلہ عباس عراقچی کے اسلام آباد سے روانہ ہونے کے بعد سامنے آیا، جس سے ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکراتی عمل پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

فی الحال ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کے آئندہ فارمیٹ کے بارے میں کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آئی ہیں، تاہم سفارتی سرگرمیوں میں تیزی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔