اہم ترین

اسرائیل میں نیتن یاہو کے خلاف دو سابق وزرائے اعظم متحد

اسرائیل کی سیاست میں اس وقت ایک بڑا ہلچل مچ گئی جب دو سابق وزرائے اعظم، نفتالی بینٹ اور اپوزیشن لیڈر یائر لپید نے موجودہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے ایک مشترکہ انتخابی فہرست پر الیکشن لڑنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔

اے ایف پی کے مطابق ایک مشترکہ ٹیلی ویژن بیان میں نفتالی بینٹ نے اعلان کیا کہ وہ اور یائر لپید مل کر بیحد نامی نئی جماعت کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ بینٹ نے اس اقدام کو ملک کے لیے سب سے بڑا محب وطن قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اتحاد ملک میں ایک نئے عہد کا آغاز کرے گا اور اکتوبر میں ہونے والے انتخابات میں بڑی کامیابی حاصل کرے گا۔

نفتالی بینٹ ماضی میں نیتن یاہو کے مشیر رہ چکے ہیں، اب ان کے سخت ترین حریف بن کر ابھرے ہیں۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ اگر وہ اقتدار میں آئے تو 7 اکتوبر 2023 کو حماس اور اس کی اتحادی تنظیموں کے حملوں کی تحقیقات کے لیے ایک قومی کمیشن تشکیل دیں گے جن کی وجہ سے حماس کا حملہ ممکن ہوا ۔

دونوں رہنماؤں نے غزہ جنگ اور ایران کے ساتھ ہونے والے حالیہ دو ہفتوں کے سیز فائر کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا، جسے لپید نے سیاسی تباہی قرار دیا۔

یائر لپید نے بینٹ کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ایک دیانتدار دائیں بازو کا سیاست دان قرار دیا۔

واضح رہے کہ یہ دونوں رہنما اس سے قبل 2021 میں بھی ایک مخلوط حکومت بنا چکے ہیں، جو 2022 کے آخر میں ختم ہو گئی تھی اور نیتن یاہو دوبارہ اقتدار میں آگئے تھے۔

حالیہ عوامی جائزوں کے مطابق، 54 سالہ نفتالی بینٹ اس وقت نیتن یاہو کو شکست دینے کے لیے سب سے موزوں امیدوار کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب 76 سالہ بنجمن نیتن یاہو، جو اسرائیل کے طویل ترین عرصے تک رہنے والے وزیراعظم ہیں، اپنی جماعت لیکوڈ کی قیادت کرتے ہوئے اکتوبر کے انتخابات میں دوبارہ قسمت آزمائی کریں گے۔

بینٹ نے سابق وزیر گاڈی آئزن کوٹ کو بھی اس اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے، جس سے نیتن یاہو مخالف محاذ مزید مضبوط ہونے کا امکان ہے۔

پاکستان