بھارتی میعشیت کو ایران جنگ کا بڑا جھٹکا، لاکھوں افراد خلیجی ممالک سے بے دخل

ایران سے امریکا اسرائیل جنگ نے خلیجی ممالک میں کام کرنے والے بھارتی شہریوں کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے، جہاں ہزاروں افراد ملازمتیں کھونے کے بعد وطن واپسی پر مجبور ہو گئے ہیں، جبکہ لاکھوں مزید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔

جرمن نیوز ویب سائیٹ ڈی ڈبلیو کے مطابق فروری کے آخر سے اپریل کے وسط تک تقریباً 10 لاکھ بھارتی شہری خلیجی خطے سے واپس بھارت لوٹ چکے ہیں۔ ان میں مزدوروں کے ساتھ طلبہ اور کم آمدنی والے دیگر افراد بھی شامل ہیں، جس سے بھارت کو ممکنہ معاشی دھچکے کا سامنا ہے۔

خلیجی معیشت بڑی حد تک غیر ملکی افرادی قوت پر انحصار کرتی ہے۔ فضائی حدود کی بندش، بحری تجارت میں رکاوٹیں اور منصوبوں کی سست روی نے کاروباری سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ سیاحت میں نمایاں کمی آئی ہے، ہوٹل خالی ہو رہے ہیں اور ایئرلائنز نے پروازیں کم کر دی ہیں۔

آبنائے ہرمز کے ذریعے ہونے والی تجارت بھی متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث سپلائی چین سست پڑ گئی ہے اور اشیائے ضروریہ کی فراہمی تک متاثر ہونے لگی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر صورتحال برقرار رہی تو خطے کی معیشت مزید سکڑ سکتی ہے۔

بھارتی تارکین وطن، جو ہر سال اربوں ڈالر زرِ مبادلہ اپنے ملک بھیجتے ہیں، اب ایک مشکل فیصلے کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ ایک طرف وطن واپسی مہنگی اور غیر یقینی ہے، تو دوسری جانب خلیج میں رہنا بھی روزگار کے مسلسل خطرات سے خالی نہیں۔

معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال بھارت کے لیے ’لیبر شاک‘ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے کھپت، رہائش اور قرضوں کا نظام متاثر ہوگا۔ اگر جنگ طویل ہوئی تو بے روزگاری میں اضافہ اور ریاستی مالیات پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

سابق سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک، جو برسوں سے بھارتی افرادی قوت کے لیے روزگار کا بڑا ذریعہ رہے ہیں، اب اپنی اہمیت کھو سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں لاکھوں خاندانوں کی آمدنی اور مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ خلیج میں بنائی گئی برسوں کی زندگی اب غیر یقینی ہو چکی ہے اور وہ انتظار میں ہیں کہ حالات کس رخ پر جاتے ہیں۔