اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سیپری ) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی عدم تحفظ کی لہر اور جنگوں کے باعث عالمی دفاعی اخراجات میں 2.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد عسکری اخراجات مجموعی طور پر 2.6 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں۔
سیپری کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ دنیا کے سب سے زیادہ دفاعی بجٹ رکھنے والے ملک امریکا نے اپنے اخراجات میں 7.5 فیصد کمی کی (جو 954 ارب ڈالر رہے)، لیکن اس کمی کو یورپ اور ایشیا میں ہونے والے بڑے اضافے نے برابر کر دیا۔
یوکرین جنگ اور روس کے خطرے کے پیشِ نظر یورپ میں دفاعی اخراجات 14 فیصد اضافے کے ساتھ 864 ارب ڈالر تک جا پہنچے۔
ایشیا میں چین، جاپان اور تائیوان کے درمیان جاری تناؤ کے باعث اس خطے میں عسکری اخراجات 681 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جو 2009 کے بعد سب سے بڑا سالانہ اضافہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یوکرین اور روس دونوں نے اپنی حکومتوں کے بجٹ کا بڑا حصہ جنگ کی نذر کر دیا ہے:
یوکرین کے ساتھ جنگ کرنے والے روس کے دفاعی اخراجات 5.9 فیصد اضافے کے ساتھ 190 ارب ڈالر (جی ڈی پی کا 7.5 فیصد) رہے۔یوکرین کا دفاعی بجٹ 20 فیصد اضافے کے بعد 84.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، یہ یوکرین کی مجموعی جی ڈی پی کا 40 فیصد بنتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باوجود مجموعی اخراجات میں صرف 0.1 فیصد کا معمولی اضافہ ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسرائیل کے اخراجات میں جنوری 2025 کے سیز فائر معاہدے کے بعد 4.9 فیصد کمی دیکھی گئی، تاہم یہ اب بھی 2022 کے مقابلے میں 97 فیصد زیادہ ہیں۔ ایران کے اخراجات میں بھی افراطِ زر کی وجہ سے ڈالر کی قدر میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
سیپری کے محقق لورینزو سکارازاٹو کا کہنا ہے کہ دنیا خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہے اور اس عدم تحفظ کا مقابلہ کرنے کے لیے عسکری طاقت پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ امریکا کے دفاعی بجٹ میں کمی عارضی ہے، کیونکہ 2026 کے لیے کانگریس پہلے ہیایک ہزار ارب ڈالر سے زائد کی منظوری دے چکی ہے جو کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی بجٹ تجاویز کی صورت میں مزید بڑھ سکتا ہے۔


