مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے تیزی سے پھیلتے ہوئے استعمال کے درمیان عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ نے اپنی آواز کے تحفظ کے لیے اہم قدم اٹھا لیا ہے۔
اے ایف پی کے طابق، ٹیلر سوئفٹ نے یونائیٹڈ اسٹیٹس پیٹنٹ اینڈ ٹریڈ مارک آفس(یو ایس پی ٹی او ) میں اپنی آواز کو بطور ٹریڈ مارک رجسٹر کرانے کی درخواستیں جمع کرا دی ہیں۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی بھی شخص کی آواز کو چند سیکنڈز میں نقل کرنا ممکن ہو چکا ہے۔
دستاویزات کے مطابق، گلوکارہ نے دو آڈیو ریکارڈنگز جمع کرائیں جن میں وہ ’ہائے: میں ٹیلر ہوں‘ کہہ کر اپنے نئے البم دی لائف آف شو گرل کا اعلان کرتی ہیں، جو اکتوبر کے اوائل میں جاری کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک اسٹیج پرفارمنس کی تصویر بھی درخواست کے ساتھ جمع کروائی گئی ہے، تاہم ان فائلنگز کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
یہ اقدام میتھیو مک کوناگھے کے حالیہ اقدامات سے ملتا جلتا ہے، جنہوں نے بھی اپنی آواز کے غیر مجاز اے آئی استعمال کے خلاف تحفظ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ان کی درخواست میں ان کا مشہور جملہ “آل رائٹ، آل رائٹ ، آل رائٹ” شامل ہے، جو فلم ڈیزڈ اینڈ کنفیوزڈ سے لیا گیا ہے۔
ٹیکنالوجی میں پیش رفت کے باعث اب مختصر آڈیو کلپ سے بھی کسی کی آواز کی حقیقت سے قریب نقل تیار کی جا سکتی ہے، جس پر فنکاروں میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ اسی تناظر میں امریکہ کی بعض ریاستوں نے ایسے قوانین بھی متعارف کروائے ہیں جو کسی کی آواز یا شناخت کے غیر مجاز استعمال کو محدود کرتے ہیں۔ خاص طور پر 2024 میں ٹینیسی میں منظور ہونے والا ایلوس ایکٹ اس حوالے سے نمایاں مثال ہے۔
اس سے قبل بھی ہالی ووڈ اداکارہ شارلٹ جوہانسن نے 2023 میں ایک اے آئی ایپ کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، جس نے ان کی اجازت کے بغیر ان جیسی ڈیجیٹل شخصیت اشتہارات میں استعمال کی تھی۔
ماہرین کے مطابق، ٹیلر سوئفٹ کا یہ اقدام مستقبل میں دیگر فنکاروں کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے، جو اپنی آواز اور شناخت کو اے آئی کے غیر مجاز استعمال سے بچانے کے لیے قانونی راستے اختیار کرنے پر غور کر رہے ہیں۔


