پاکستان اور انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان جاری اقتصادی تعاون کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 8 مئی کو طلب کر لیا گیا ہے، جس میں پاکستان کیلئے تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری متوقع ہے۔
یہ منظوری پاکستان کے لیے توسیعی فنڈ سہولت (ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی) پروگرام کے تحت تیسرے اقتصادی جائزے کی کامیاب تکمیل سے مشروط ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق، اگر یہ جائزہ منظور ہو جاتا ہے تو اس سے نہ صرف پاکستان کو درپیش مالی دباؤ میں کمی آئے گی بلکہ عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔
اس اجلاس میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے شروع کیے گئے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) پروگرام کے دوسرے جائزے کی منظوری بھی متوقع ہے۔ یہ پروگرام پاکستان کو ماحولیاتی چیلنجز، خصوصاً سیلاب اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ 27 مارچ کو طے پایا تھا، جس کے بعد سے یہ پیش رفت متوقع تھی۔ حکومت پاکستان نے اس معاہدے کے تحت مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات اور توانائی کے شعبے میں اقدامات کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آئی ایم ایف بورڈ اس جائزے کی منظوری دیتا ہے تو یہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہوگا، جو موجودہ معاشی استحکام کی کوششوں کو تقویت دے سکتا ہے۔


