ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت معمہ بن گئی: الجزیرہ

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور ان کی عوامی موجودگی کے حوالے سے غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے۔

الجزیرہ کے مطابق اپنے تقرر کے بعد سے اب تک مجتبیٰ خامنہ ای کو کبھی بھی عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا اور نہ ہی ان کا کوئی ویڈیو یا آڈیو پیغام جاری کیا گیا ہے۔ ان کی جانب سے تمام بیانات سرکاری ٹی وی کے پریزنٹرز کے ذریعے پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔

ایرانی حلقوں کا کہنا ہے کہ رہبرِ اعلیٰ کے روپوش رہنے کی سب سے بڑی وجہ ان کی سیکیورٹی ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے اہم شخصیات کو نشانہ بنانے کی پالیسی نے تہران کو انتہائی محتاط ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای مکمل طور پر صحت مند ہیں اور وہ روزانہ کی بنیاد پر ریاستی امور کی نگرانی کر رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکا کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ ایرانی رہبرِ اعلیٰ شدید زخمی اور معذور ہو چکے ہیں۔ ان متضاد دعوؤں نے ایران کی اندرونی صورتحال اور مستقبل کی قیادت کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

جہاں تہران ان خبروں کو محض پروپیگنڈا قرار دے رہا ہے، وہیں ان کا منظرِ عام پر نہ آنا شکوک و شبہات کو تقویت دے رہا ہے۔