ایران جنگ : امریکا ایک ہزار ارب ڈالر کی دلدل میں دھنس چکا؟

واشنگٹن کے سیاسی ایوانوں میں اس وقت طوفان برپا ہے جب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پہلی بار ایران جنگ کے اخراجات کا حساب دینے کیپیٹل ہل پہنچے۔ تین ماہ سے جاری اس تنازع نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کو آگ میں جھونک رکھا ہے بلکہ اب امریکی معیشت کی بنیادیں بھی ہلانا شروع کر دی ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے کانگریس کو بتایا کہ اب تک ایران جنگ پر 25 ارب ڈالر خرچ ہوئے ہیں، جو زیادہ تر اسلحے اور آلات کی دیکھ بھال پر صرف ہوئے۔ تاہم، ڈیموکریٹس اور ماہرینِ معاشیات اس اعداد و شمار کو محض دھول جھونکنے کا عمل قرار دے رہے ہیں۔

ہارورڈ یونیورسٹی کی ماہر معاشیات لنڈا بیلمز کا دعویٰ ہے کہ جنگ کے طویل مدتی اخراجات ایک ہزار ارب ڈالر تک جا سکتے ہیں۔

رکنِ پارلیمنٹ رو کھنہ کے مطابق، گیس اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں ہر امریکی گھرانے کو 5 ہزار ڈالر کا بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

اس جنگ کی معاشی منطق پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران کے ‘شاہد ڈرونز’ (جن کی قیمت 50 ہزار ڈالر سے زیادہ نہیں) کو گرانے کے لیے ‘پیٹریاٹ میزائل’ استعمال کیے، جس کے ایک یونٹ کی قیمت 40 لاکھ ڈالر ہے۔ جنگ کے پہلے 39 دنوں میں امریکا نے ایران کے 13 ہزار اہداف کو نشانہ بنایا، جس میں اتنا اسلحہ استعمال ہوا جو یوکرین کو گزشتہ چار سال میں فراہم کردہ اسلحے سے بھی زیادہ ہے۔

جنگ کے پہلے ہی دن ایرانی حملوں نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ کویتی کیمپس، متحدہ عرب امارات کے الظفرہ اور سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس ایرانی میزائلوں کی زد میں آئے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق صرف بحرین میں امریکی پانچویں بیڑے کے ہیڈ کوارٹر کی مرمت پر 200 ملین ڈالر لاگت آئے گی۔ پینٹاگون نے ابھی تک ان نقصانات کے حتمی اعداد و شمار جاری نہیں کیے۔

آبنائے ہرمز کی بندش اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی نے امریکہ میں پٹرول (گیس) کی قیمتوں کو 4.23 ڈالر فی گیلن تک پہنچا دیا ہے، جو کہ 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف ریکارڈ حد تک گر گیا ہے، صرف 22 فیصد امریکی ان کے معاشی فیصلوں سے مطمئن ہیں۔ انتظامیہ نے اگلے سال کے لیے 1.5 کھرب ڈالر کا دفاعی بجٹ مانگا ہے، جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد فوجی اخراجات میں سب سے بڑا اضافہ ہوگا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگیں ہمیشہ توقع سے زیادہ مہنگی اور طویل ہوتی ہیں۔ ایران کے ساتھ یہ تنازع محض بموں اور میزائلوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ امریکی انفراسٹرکچر کی مرمت، سابق فوجیوں کی دیکھ بھال اور عالمی سپلائی چین کی تباہی کی صورت میں ایک ایسا معاشی بوجھ بن رہا ہے جس کا خمیازہ آنے والی کئی دہائیاں بھگتنا پڑ سکتا ہے۔