ایپل کی تاریخی کمائی، آئی فون 17 کی زبردست مانگ نے ریکارڈ توڑ دیے

دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں شاندار مالیاتی کارکردگی دکھاتے ہوئے تمام اندازوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔

کمپنی کے مطابق حالیہ سہ ماہی میں اس کا منافع 29.6 ارب ڈالر جبکہ آمدنی 111.2 ارب ڈالر رہی، جو مارچ کے کسی بھی سہ ماہی کے لیے اب تک کی سب سے زیادہ ہے۔

کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹم کُک نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہم نے اپنی تاریخ کا بہترین مارچ کوارٹر ریکارڈ کیا ہے۔آئی فون کی فروخت میں دنیا بھر میں دوہرے ہندسوں میں اضافہ ہوا، جبکہ کمپنی کے ڈیجیٹل سروسز شعبے نے بھی نئی بلندی حاصل کی۔

رپورٹ کے مطابق خاص طور پر آئی فون کی مضبوط فروخت نے کمپنی کی کارکردگی کو سہارا دیا، اور صارفین کی جانب سے نئی ڈیوائسز میں غیرمعمولی دلچسپی دیکھنے میں آئی۔

اس کامیابی کے ساتھ ہی ایپل ایک بڑی تبدیلی کی طرف بڑھ رہی ہے۔

ٹم کُک رواں سال کے آخر میں سی ای او کے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے اور بورڈ کے چیئرمین کا کردار سنبھالیں گے۔ ان کی جگہ کمپنی کے تجربہ کار عہدیدار جون ٹیرنس ستمبر میں نیا سی ای او بنیں گے۔

جون ٹیرنس نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ میرے 25 سالہ کیریئر کا سب سے دلچسپ وقت ہے، اور مستقبل کے مواقع بے شمار ہیں۔

اگرچہ مالی نتائج شاندار رہے، مگر ماہرین کے مطابق ایپل کو مصنوعی ذہانت (اےائی) کے میدان میں سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

حریف کمپنیاں جیسے گوگل، مائیکروسافٹ اور اوپن اے آئی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں، جبکہ ایپل نسبتاً محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔

مزید یہ کہ کمپنی کے ڈیجیٹل اسسٹنٹ سیری کی اپڈیٹ میں تاخیر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل امتحان نئے سی ای او جون ٹیرنس کے لیے ہوگا کہ آیا وہ کمپنی کو اےآئی کے دور میں ایک نئی سمت دے سکتے ہیں یا نہیں۔

ایپل اپنی 50ویں سالگرہ منا رہی ہے، اور دنیا کی نظریں اس پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ کمپنی ایک بار پھر کوئی انقلابی پروڈکٹ پیش کر پائے گی یا نہیں۔