ایران سے متعلق کشیدگی اور اہم سمندری راستوں کی بندش نے عالمی تجارت کے نظام کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں جہازوں کے روٹس تبدیل ہو رہے ہیں اور افریقہ ایک اہم تجارتی مرکز بنتا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق،آبنائے ہرمز کی بندش اور بحیرہ احمر میں سکیورٹی خدشات کے باعث شپنگ کمپنیوں نے روایتی راستے چھوڑ دیے ہیں۔ اب زیادہ تر جہاز افریقہ کے جنوبی سرے کیپ آف گُڈ ہوپ کے ذریعے یورپ جا رہے ہیں، جس سے سفر کا وقت بڑھ گیا ہے۔
اس تبدیلی کے باعث ایشیا اور یورپ کے درمیان سامان کی ترسیل میں اوسطاً دو ہفتے کی تاخیر ہو رہی ہے، جبکہ ایندھن کے اضافی استعمال کی وجہ سے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں۔
دوسری جانب خلیجی ممالک تک سامان پہنچانے کے لیے متبادل راستے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ سعودی عرب کی بندرگاہ جدہ ایک اہم مرکز بن گئی ہے، جہاں سے سامان ٹرکوں کے ذریعے دیگر ممالک تک پہنچایا جا رہا ہے۔ تاہم وہاں رش اور تاخیر کے مسائل بھی سامنے آ رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق، اب بڑی تعداد میں جہاز بحیرہ احمر کے بجائے افریقہ کے راستے سفر کر رہے ہیں، جبکہ آبنائے باب المندب سے گزرنے والی ٹریفک میں نمایاں کمی آئی ہے۔
اس صورتحال سے کچھ ممالک کو فائدہ بھی ہوا ہے۔ مراکش کی بندرگاہ طنجر مید پر تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس کے برعکس مصر کو سوئس کینال کی آمدنی میں نمایاں کمی کا سامنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو عالمی تجارتی راستوں میں یہ تبدیلی مستقل بھی ہو سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت پر پڑیں گے۔


