امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی معاشی دباؤ کی حکمت عملی کو مزید سخت کرتے ہوئے نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر کا دعویٰ ہے کہ ایران کی مالی ناکہ بندی رنگ لا رہی ہے اور تہران کو بالآخر امریکی شرائط پر مذاکرات کی میز پر آنا پڑے گا۔
امریکی محکمہ خزانہ نے ان تمام افراد اور اداروں پر پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے جو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران کو ‘ٹول ٹیکس’ یا راہداری فیس ادا کریں گے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے ایران کو روزانہ لاکھوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ ایران کے اندرونی اداروں اور شخصیات پر مسلسل پابندیاں ایرانی معیشت کو مفلوج کر رہی ہیں۔
عالمی سطح پر تیل کی سپلائی برقرار رکھنے اور ایران کو بائی پاس کرنے کے لیے امریکی محکمہ خارجہ نے ایک نیا بحری اتحاد تشکیل دیا ہے جسے میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ کا نام دیا گیا ہے۔
اس پورے آپریشن کی نگرانی امریکی سینٹرل کمانڈ کرے گی۔ جو جہاز امریکی شرائط کو تسلیم کریں گے، انہیں امریکی بحریہ کے جنگی جہاز اپنی حفاظت میں آبنائے ہرمز سے گزاریں گے۔
ان بحری جہازوں کو ایران کو کوئی ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑے گا، جس کا مقصد ایران کی آمدنی کے ذرائع کو مکمل طور پر خشک کرنا ہے۔
یہ ایک انتہائی پیچیدہ صورتحال ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں اور سپلائی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ امریکہ ایک طرف ایران کا معاشی بائیکاٹ کرنا چاہتا ہے اور دوسری طرف اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ سے تیل کی ترسیل نہ رکے، تاکہ عالمی معیشت کو بڑے بحران سے بچایا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ دراصل ایران کے اس دعوے کو چیلنج کرنے کی ایک کوشش ہے جس کے تحت وہ آبنائے ہرمز پر اپنا حقِ ملکیت جتاتا ہے۔











