اہم ترین

امریکا جرمنی اختلافات : ٹرمپ انتظامیہ کا اپنےہزاروں فوجی واپس بلالیئے

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے جرمنی میں تعینات امریکی افواج میں سے تقریباً 5 ہزار فوجیوں کو اگلے ایک سال کے اندر واپس بلانے کا باضابطہ حکم دے دیا ہے۔

پینٹاگون کے مطابق یہ فیصلہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور تجارتی تنازعات پر امریکہ اور یورپ کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کا نتیجہ ہے۔

پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے واضح کیا کہ یہ انخلا آئندہ 6 سے 12 ماہ کے اندر مکمل کر لیا جائے گا۔ یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے یورپی اتحادیوں پر زور دیا تھا کہ وہ امریکہ پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے دفاع کی ذمہ داری خود اٹھائیں۔

موجودہ اعداد و شمار کے مطابق جرمنی میں 36ہزار436 امریکی فوجی تعینات ہیں، جن میں سے 5 ہزار کی کمی کی جا رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اٹلی اور اسپین سے بھی فوجی نکالنے کی دھمکی دی ہے، کیونکہ ان ممالک نے خلیج میں قیامِ امن کی فورس میں حصہ لینے سے انکار کیا ہے۔

یہ فوجی انخلا ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور جرمنی کے درمیان تعلقات انتہائی سرد مہری کا شکار ہیں

صدر ٹرمپ نے اگلے ہفتے سے یورپی گاڑیوں پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کیا ہے، جس سے جرمن کار ساز کمپنیاں (مرسڈیز اور بی ایم ڈبلیو) براہِ راست متاثر ہوں گی۔

جرمن چانسلر فریڈرک میرز کی جانب سے ایران کے معاملے پر بیان بازی کو ٹرمپ نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ ایران کے بجائے یوکرین جنگ ختم کرنے پر توجہ دیں۔

جرمن وزیرِ خارجہ جوہان وڈیفول نے مراکش کے دورے کے دوران کہا کہ جرمنی امریکی فوجیوں کی کمی کے لیے تیار ہے اور اس پر نیٹو کے فورمز میں بات چیت ہو رہی ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ جرمنی میں موجود بڑے امریکی فوجی اڈے، جیسے کہ رامسٹائن ایئر بیس، بند نہیں کیے جائیں گے کیونکہ یہ امریکہ اور جرمنی دونوں کے لیے تزویراتی اہمیت رکھتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ اقدام اپنے اتحادیوں کو سزا دینے کی ایک کوشش ہے جو امریکہ کی خارجہ پالیسی سے اتفاق نہیں کر رہے۔ دوسری جانب، یورپی یونین نے خبردار کیا ہے کہ یورپ میں امریکی افواج کی موجودگی خود واشنگٹن کے اپنے مفاد میں ہے اور امریکہ یورپ کے دفاع میں ایک ناگزیر شراکت دار ہے۔

پاکستان