اسپنر ساجد خان کا وائٹ بال کرکٹ میں مواقع نہ ملنے پر شکوہ

پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے اسپنر ساجد خان نے کہا ہے کہ لاہور اور کراچی میں ہونے والے کیمپوں کے دوران ٹیم نے اچھی تیاری کی ہے اور وہ اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے پر توجہ دے رہے ہیں۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ چھ سال سے ڈومیسٹک کرکٹ میں ان کا شمار ٹاپ بولرز میں ہوتا رہا ہے، تاہم انہیں “ریڈ بال کرکٹ” کا ٹیگ دے دیا گیا ہے۔ ساجد خان کے مطابق ان کی پوری توجہ اپنی پرفارمنس پر ہے، نہ کہ اس بات پر کہ انہیں کس فارمیٹ کا کھلاڑی سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے وائٹ بال کرکٹ میں مواقع نہ ملنے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پشاور ریجن کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں بھی مواقع نہیں دیے گئے، حتیٰ کہ نیشنل ٹی ٹوئنٹی میں بھی وہ ٹیم کا حصہ نہیں بن سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کسی کھلاڑی کو موقع ہی نہ ملے تو وہ خود کو کیسے ثابت کرے گا۔

ساجد خان نے کہا کہ جب ان کا اپنا ریجن انہیں موقع نہیں دے گا تو پھر پاکستان سپر لیگ میں منتخب ہونا بھی مشکل ہو جاتا ہے، تاہم انہیں پی ایس ایل سے کوئی شکوہ نہیں ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر ریجنل سطح پر موقع ملے اور وہ کارکردگی دکھائیں تو سلیکٹرز کی نظر میں آ سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ون ڈے کرکٹ میں بھی ان کی کارکردگی اچھی رہی ہے، لیکن اس وقت ان کی توجہ ٹیسٹ کرکٹ پر ہے کیونکہ آنے والے عرصے میں پاکستان کو 9 سے 11 ٹیسٹ میچز کھیلنے ہیں۔

بنگلادیش کے خلاف آئندہ سیریز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ساجد خان نے کہا کہ بنگلادیش کے پاس اچھے فاسٹ بولرز موجود ہیں اور وہ تیز وکٹوں پر انحصار کرتے ہیں، تاہم اصل صورتحال وہاں پہنچ کر ہی واضح ہوگی کہ کنڈیشنز کیسی ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم ہر قسم کی پچ پر اچھی کارکردگی دکھانے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بنگلادیش نے حال ہی میں نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے خلاف سیریز جیت کر اپنی صلاحیتوں کا ثبوت دیا ہے، اس لیے مقابلہ آسان نہیں ہوگا۔