اہم ترین

عالمی بینک کا 600 ملین ڈالر مالیاتی اصلاحاتی پروگرام سست روی کا شکار

عالمی بینک کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کے لیے 600 ملین ڈالر مالیت کا مالیاتی اصلاحاتی پروگرام تاحال سست روی کا شکار ہے اور کئی ماہ گزرنے کے باوجود اس پر مؤثر عملدرآمد شروع نہیں ہو سکا۔

امپلیمینٹیشن اسٹیٹس اینڈ رزلٹس رپورٹ کے مطابق حکومت نے 19 دسمبر 2025 کو “پاکستان پبلک ریسورسز فار انکلوسیو ڈویلپمنٹ” پروگرام کی منظوری دی تھی، تاہم اہم انتظامی منظوریوں میں تاخیر کے باعث منصوبہ ابھی تک غیر مؤثر ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ منصوبے کا پی سی ون تاحال سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی کے زیرِ غور ہے، جس کے باعث اصلاحات کے آغاز میں رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس پروگرام کا مقصد پاکستان کے مالیاتی نظام کو مستحکم بنانا اور میکرو اکنامک استحکام کو سہارا دینا ہے، تاہم اب تک کوئی فنڈ جاری نہیں کیا جا سکا، جس کی وجہ سے منصوبہ ابتدائی سطح پر ہی موجود ہے۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ پروگرام کے تحت 2030 تک ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کو 12.3 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد تک لے جانا، ٹیکس اخراجات میں 30 فیصد کمی اور براہِ راست ٹیکسوں کا حصہ بڑھانا شامل ہے۔ اس کے علاوہ ٹیکس نظام کو جدید بنانے اور سنگل جی ایس ٹی پورٹل کے قیام جیسے اقدامات بھی منصوبے کا حصہ ہیں۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کے فقدان اور ساختی رکاوٹوں کے باعث اصلاحات متاثر ہو رہی ہیں۔ اخراجات کی شفافیت، ای گورننس، وینڈرز کو ڈیجیٹل ادائیگیوں اور عوامی خدمات تک رسائی جیسے اہداف بھی ابھی دور دکھائی دیتے ہیں۔

مزید بتایا گیا ہے کہ اداروں کی رائٹ سائزنگ کا عمل بھی سست ہے، جبکہ اہم عہدوں پر تقرریاں نہ ہونے، گورننس اور نگرانی کے نظام میں کمزوریوں اور خریداری و آڈٹ ڈھانچے میں بہتری کی ضرورت بھی سامنے آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بجلی کے شعبے میں سبسڈیز کی سالانہ لاگت ایک ہزار ارب روپے سے زائد ہے، جسے کم کرنے کے لیے اصلاحات ابھی تیاری کے مرحلے میں ہیں۔

عالمی بینک نے عندیہ دیا ہے کہ وہ رواں سال کے آخر میں اپنا پہلا امپلیمینٹیشن سپورٹ مشن بھیجے گا، جبکہ مجموعی طور پر پروگرام کو سیاسی، معاشی اور ادارہ جاتی چیلنجز کے باعث زیادہ خطرات لاحق قرار دیا گیا ہے۔

پاکستان