غزہ کی پٹی میں جاری جنگ اور بے گھری نے جہاں زندگی کی ہر خوشی چھین لی ہے، وہاں اب شادی جیسے زندگی کے اہم ترین بندھن میں بندھنا بھی نوجوانوں کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکا ہے۔
سجیٰ المصری اور محمد اہلیوت کی کہانی ان ہزاروں نوجوان جوڑوں کی عکاسی کرتی ہے جو جنگ کے ملبے پر اپنی نئی زندگی شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
محمد اہلیوت کبھی ایک سات منزلہ مکان اور ایک مکمل فرنیچر سے آراستہ اپارٹمنٹ کے مالک تھے، اب ایک خیمے میں اپنی دلہن کو لانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کا گھر اور پولٹری فارم کا کاروبار جنگ کی نذر ہو چکا ہے۔
محمد اہلیوت نے بتایا کہ ایک عام خیمے کی تیاری پر انہیں تقریباً 1500 شیکل (509 ڈالر) خرچ کرنے پڑے، جبکہ لکڑی، پلاسٹک شیٹس اور ایک عارضی باتھ روم بنانے پر مجموعی لاگت 9000 شیکل (تقریباً 3000 ڈالر) سے تجاوز کر گئی ہے۔
جنگ سے پہلے جو بیڈ روم سیٹ 5000 شیکل میں ملتا تھا، اب اس کی قیمت 20 ہزار شیکل تک پہنچ چکی ہے، جس کی وجہ سے یہ جوڑا زمین پر گدے بچھا کر زندگی شروع کرنے پر مجبور ہے۔
سجیٰ، جو گرافک ڈیزائن کی طالبہ تھیں، اپنی شادی کے دن کو یاد کر کے آبدیدہ ہو جاتی ہیں۔ مارکیٹ میں عروسی لباس کا ایک رات کا کرایہ 2000 شیکل (679 ڈالر) طلب کیا جا رہا ہے، جو ان کی پہنچ سے باہر ہے۔
محمد اہلیوت نے ایک جاننے والے سے ایک پرانا اور کناروں سے پھٹا ہوا لباس ادھار لیا ہے۔
سجیٰ کہتی ہیں، جب میں نے یہ لباس پہن کر دیکھا تو میری چیخیں نکل گئیں، یہ بہت پرانا اور جگہ جگہ سے خراب تھا، لیکن ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔
سجیٰ کی والدہ 49 سالہ سمیرا نے جنگ کے دوران اپنی چار بیٹیوں کی شادیاں کی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے لیے ہر شادی ایک خوشی کے بجائے المیہ محسوس ہوتی ہے کیونکہ کسی بیٹی کو نہ تو وہ مناسب رخصتی دے سکیں اور نہ ہی کوئی سہولت۔ “وہ سب خیموں میں اپنی زندگی شروع کر رہی ہیں، جہاں نہ کوئی الماری ہے اور نہ ہی سکون۔”
غزہ میں بے روزگاری 80 فیصد اور غربت 93 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے باوجود سجیٰ اور محمد اگلے ہفتے شادی کے بندھن میں بندھنے جا رہے ہیں۔
سجیٰ کا کہنا ہے کہ حالات بہتر ہونے کا نام نہیں لے رہے، ہم کب تک انتظار کریں؟ اگرچہ یہ ایک کٹھن آغاز ہے، لیکن محمد اہلیوت کا ساتھ مجھے ہمت دیتا ہے۔


