ٹیکنالوجی جہاں زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کر رہی ہے، وہیں اب یہ انسانی جذبات اور ٹوٹے ہوئے تعلقات کے درمیان بھی جگہ بنا رہی ہے۔ چین میں نوجوانوں کے درمیان ایک نیا اور پریشان کن رحجان دیکھا جا رہا ہے جہاں لوگ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کرتے ہوئے اپنے سابق جیون ساتھیوں یا محبوب کے ڈیجیٹل کلونز تیار کر رہے ہیں۔
اس رحجان کے پیچھے ایکس اسکل نامی ایک اوپن سورس ماڈیول ہے جو صارفین کو اپنے ماضی کے تعلقات کا مواد (جیسے چیٹ لاگز، تصاویر، اور سوشل میڈیا پوسٹس) اپ لوڈ کرنے کی سہولت دیتا ہے۔
یہ سسٹم فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر سابقہ ساتھی کے لہجے، تکیہ کلام اور بات چیت کے مخصوص انداز کی نقل کرتا ہے۔
تخلیق کاروں کے مطابق یہ ماڈیول حیاتیاتی یادوں کو ڈیجیٹل نیٹ ورک میں منتقل کر کے ایک جیتا جاگتا ‘ڈیجیٹل عکس’ تیار کر دیتا ہے۔
اگرچہ یہ عمل بہت سوں کے لیے عجیب ہے، لیکن کچھ صارفین کا دعویٰ ہے کہ اس سے انہیں ذہنی سکون ملا ہے۔
کچھ صارفین نے بتایا کہ انہوں نے وہ تمام باتیں اپنے ڈیجیٹل ایکس سے کہہ دیں جو وہ حقیقت میں نہیں کہہ پائے تھے، جس سے ان کا بوجھ ہلکا ہو گیا۔
بعض کے مطابق، اس سافٹ ویئر سے گفتگو کر کے انہیں احساس ہوا کہ ان کا سابقہ ساتھی اتنا بھی اچھا نہیں تھا جتنا وہ اسے یاد کر رہے تھے، جس سے انہیں رشتہ ختم کرنے کے صدمے سے نکلنے میں مدد ملی۔
اس ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے ماہرین اور عام عوام میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کسی شخص کا ڈیٹا (چیٹس اور تصاویر) اس کی اجازت کے بغیر کسی نیورل نیٹ ورک کو دینا اخلاقی طور پر درست ہے؟
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ لوگ حقیقت سے دور ہو کر ان ڈیجیٹل کرداروں پر جذباتی طور پر منحصر ہو سکتے ہیں، جو انہیں نئے اور صحت مند انسانی رشتے استوار کرنے سے روک سکتا ہے۔
ڈویلپرز کا کہنا ہے کہ یہ پروجیکٹ صرف جذباتی بحالی کے لیے ہے، لیکن اس کے ذریعے ہراساں کیے جانے یا پیچھا کرنے کے خطرات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔


