اہم ترین

پاک فوج کا براڈ پیک پر لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش کے لئے آپریشن جاری

پاکستان میں دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں شامل براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے بعد لاپتہ ہونے والے 7 کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ حکام کے مطابق اب تک تین کوہ پیماؤں کی لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں۔

ایف پے کے مطابق حادثہ جمعرات کے روز اس وقت پیش آیا جب معروف برطانوی نژاد نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا کی قیادت میں دس رکنی بین الاقوامی مہم جو ٹیم براڈ پیک (8047 میٹر بلند) سر کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ برفانی تودہ تقریباً 6600 میٹر کی بلندی پر چڑھائی کے دوران گرا، جس کے بعد ٹیم سے رابطہ منقطع ہو گیا۔

گلگت بلتستان حکومت کے مطابق برآمد ہونے والی لاشوں میں ایک امریکی خاتون، ایک عمانی خاتون اور ایک نیپالی مرد کوہ پیما شامل ہیں۔ لاشوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی باضابطہ شناخت کا عمل جاری ہے۔

پولیس اور مقامی حکام کے مطابق جمعے کو خراب موسم کے باعث سرچ آپریشن روکنا پڑا تھا، تاہم ہفتے کے روز ہائی آلٹی ٹیوڈ پورٹرز، ریسکیو ٹیموں اور پاک فوج کے اہلکاروں نے دوبارہ کارروائی شروع کر دی۔ ڈرون کی مدد سے مزید کوہ پیماؤں کی لاشوں کے ممکنہ مقامات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

حکام نے بتایا کہ دشوار گزار پہاڑی علاقے اور انتہائی بلند مقام پر خراب موسمی حالات کے باوجود ریسکیو کارروائی جاری ہے، جس میں فوجی ہیلی کاپٹر، مقامی کوہ پیما اور امدادی کارکن حصہ لے رہے ہیں۔

حادثے کا شکار ہونے والی ٹیم میں نرمل پرجا سمیت پانچ نیپالی کوہ پیما، ایک پاکستانی، ایک عمانی، ایک امریکی اور ایک چینی کوہ پیما شامل تھے۔ ٹیم کا آخری رابطہ جمعرات کی صبح ہوا تھا، جبکہ اسی شام برفانی تودہ گرنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

پاکستان الپائن کلب کی نمائندہ نائلہ کیانی کے مطابق کوہ پیماؤں کے ٹریکنگ آلات سے ملنے والے ڈیٹا سے ظاہر ہوا کہ برفانی تودے نے انہیں پہاڑی ڈھلوان پر سیکڑوں میٹر نیچے تک بہا دیا۔

نرمل پرجا دنیا کے مشہور ترین کوہ پیماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے 2019 میں دنیا کی تمام 14 آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کو صرف چھ ماہ اور چھ دن میں سر کر کے عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔

حادثے سے قبل پرجا نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ وہ بغیر آکسیجن کے دنیا کی تمام 14 سپر پیکس دو مرتبہ سر کرنے والے پہلے انسان بننے کے قریب ہیں۔

براڈ پیک قراقرم سلسلے میں واقع دنیا کی 12ویں بلند ترین چوٹی ہے اور 8 ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں میں اسے انتہائی مشکل اور تکنیکی چڑھائیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اسے پہلی بار 1957 میں ایک آسٹریلوی مہم جو ٹیم نے سر کیا تھا۔

پاکستان