مستقبل کی جنگوں میں اے آئی اور سائبر وارفیئر فیصلہ کن ہوں گے: فیلڈ مارشل

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ آنے والے دور کی جنگیں روایتی انداز سے مختلف ہوں گی، جہاں جدید ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلی جنس، سائبر وارفیئر، ڈرونز اور الیکٹرانک جنگی نظام بنیادی کردار ادا کریں گے۔

معرکہ حق میں فتح کا ایک سال مکمل ہونے پر جی ایچ کیو راولپنڈی میں خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مستقبل کے عسکری آپریشنز ملٹی ڈومین نوعیت کے ہوں گے، جن میں زمین، فضا، سمندر، سائبر اور خلائی میدان بیک وقت استعمال کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے پاکستان نے اپنی دفاعی تیاریوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹر قائم کیا جا چکا ہے جبکہ خلائی پروگرام کو بھی وسعت دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ آرمی راکٹ فورس کمانڈ کا قیام اور جدید جنگی طیاروں کے حصول جیسے اقدامات دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ فیلڈ مارشل کے مطابق فتح میزائل سیریز بھی پاکستان کی جدید عسکری صلاحیتوں کی اہم مثال ہے۔

فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ حالیہ علاقائی کشیدگی میں پاکستان کی کامیابی اور مؤثر حکمت عملی نے عالمی سطح پر ملکی سفارتکاری کی اہمیت میں اضافہ کیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان غیر جانب دار اور ذمہ دار سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے خطے میں امن کے فروغ کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرانے کی پاکستانی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی برادری نے جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا نام لیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے اس حساس معاملے میں پاکستان پر اعتماد کیا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ بھارت اور افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں جاری ہیں۔ افغانستان کو چاہیے کہ وہ شدت پسند گروہوں کی سرپرستی ختم کرے اور اپنی سرزمین پر موجود دہشتگرد نیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ یقینی بنائے۔