امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک اہم سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بیجنگ پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کی چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات متوقع ہے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دنیا جنگوں، عالمی تجارت اور مصنوعی ذہانت سے متعلق بڑھتے خدشات کے باعث غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے۔
صدر ٹرمپ کا یہ دورہ ان کی صدارت کے ایک حساس مرحلے میں سامنے آیا ہے۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ فوجی کارروائیوں اور اس کے بعد بڑھتی مہنگائی نے اندرونِ ملک ان کی مقبولیت کو متاثر کیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ اس دورے کے ذریعے نہ صرف خارجہ محاذ پر کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں بلکہ امریکی معیشت کو بھی سہارا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
روانگی سے قبل ٹرمپ نے واضح کیا تھا کہ ان کی شی جن پنگ سے گفتگو کا مرکزی موضوع تجارت ہوگا۔ امریکی صدر کی خواہش ہے کہ چین مزید امریکی زرعی مصنوعات، طیارے اور دیگر تجارتی اشیا خریدنے پر آمادہ ہو، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کو بہتر بنایا جا سکے۔
دوسری جانب چین میں ٹرمپ کی آمد کو سوشل میڈیا پر غیر معمولی توجہ حاصل ہوئی۔ سی سی ٹی وی کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں ٹرمپ کو بیجنگ میں طیارے سے اترتے دکھایا گیا، جسے مختصر وقت میں ہزاروں افراد نے پسند کیا۔
چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ویبو پر بھی صارفین نے ٹرمپ کے دورے پر بھرپور ردعمل دیا۔ متعدد افراد نے انہیں چین آمد پر خوش آمدید کہا جبکہ کئی صارفین نے امریکہ اور چین کے درمیان “پرامن بقائے باہمی” اور “باہمی فائدے پر مبنی تعاون” کی امید ظاہر کی۔
ماہرین کے مطابق اس ملاقات کے نتائج نہ صرف دونوں عالمی طاقتوں کے تعلقات بلکہ عالمی معیشت، تجارتی منڈیوں اور خطے کی سیاسی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔


