بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کے قریبی کاروباری دوست گوتم اڈانی نے امریکی عدالت میں جاری کرپشن کیس کے سلسلے میں جرمانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔
اے ایف پی کے مطابق نومبر 2024 میں نیویارک میں دائر ہونے والے ایک مقدمے میں گوتم اڈانی اور ان کے متعدد ساتھیوں پر بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو گمراہ کرنے اور بھارت میں سولر انرجی منصوبوں کے معاہدے حاصل کرنے کے لیے مبینہ طور پر تقریباً 250 ملین ڈالر کی رشوت اسکیم میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔
اڈانی گروپ کی جانب سے ممبئی اسٹاک ایکسچینج کو جمع کرائے گئے ایک خط میں بتایا گیا کہ گوتم اڈانی اور ان کے بھتیجے ساگر اڈانی مجموعی طور پر ایک کروڑ 80 لاکھ ڈالر کا سول جرمانہ ادا کریں گے۔ خط میں واضح کیا گیا کہ یہ ادائیگی الزامات کو تسلیم یا مسترد کیے بغیر کی جارہی ہے، جبکہ مقدمے کا حتمی فیصلہ ابھی امریکی عدالت نے سنانا ہے۔
اڈانی گرین انرجی نے اپنے بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ کمپنی خود اس قانونی کارروائی کا فریق نہیں اور اس کے خلاف کوئی باضابطہ الزام عائد نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے کہا ہے کہ امریکی استغاثہ اس مقدمے میں گوتم اڈانی کے خلاف فوجداری الزامات واپس لینے پر غور کررہا ہے۔
گوتم اڈانی کا کاروباری نیٹ ورک کوئلہ، ہوائی اڈے، سیمنٹ، بندرگاہوں اور میڈیا سمیت کئی شعبوں پر مشتمل ہے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران ان پر کارپوریٹ فراڈ اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات لگتے رہے ہیں، جن کے باعث ان کے کاروباری گروپ کو شدید مالی دباؤ اور شیئرز میں بڑی گراوٹ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
نریندرا مودی کے قریبی اتحادی سمجھے جانے والے گوتم اڈانی کا تعلق بھارتی ریاست گجرات سے ہے۔ انہوں نے کم عمری میں تعلیم چھوڑ کر ممبئی کا رخ کیا، جہاں انہوں نے جواہرات کی تجارت سے اپنے کاروباری سفر کا آغاز کیا۔ بعد ازاں 1988 میں انہوں نے اڈانی گروپ کی بنیاد رکھی، جبکہ 1995 میں گجرات میں تجارتی بندرگاہ تعمیر اور چلانے کا معاہدہ ان کے کاروباری عروج کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا۔


