نیپال میں ایک فلسطینی نژاد کوہ پیما غزہ کے بچوں کے خواب اور امیدیں دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ تک لے جانے کے مشن پر روانہ ہوگیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق فلسطین نژاد اردنی کوہ پیما مصطفیٰ سلامہ اپنے ساتھ فلسطینی پرچم کے رنگوں والی ایک پتنگ لے کر جا رہے ہیں، جس پر غزہ کے بچوں نے اپنے ہاتھوں سے خواب، پیغامات اور درد بھری یادیں تحریر کی ہیں۔
غزہ جنگ، جو اکتوبر 2023 میں حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوئی، اب تک ہزاروں جانیں لے چکی ہے جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
پتنگ پر درج پیغامات میں کچھ بچے ڈاکٹر اور انجینئر بن کر اپنے تباہ گھروں کی تعمیر نو کا خواب بیان کرتے ہیں، جبکہ کچھ پیغامات جنگ کے المناک نقصانات کی کہانی سناتے ہیں۔
مصطفیٰ سلامہ نے ایک دردناک واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ ایک بچی منیرہ نے پتنگ پر 47 لکھنے کو کہا۔میں نے پوچھا 47 کیا ہے؟ اس نے جواب دیا یہ میرے خاندان کے ان افراد کی تعداد ہے جو جنگ میں مارے گئے۔
مصطفیٰ سلامہ اس مہم کے ذریعے برطانیہ کی فلاحی تنظیم الخیر فاؤنڈیشن کے لیے ایک کروڑ ڈالر جمع کرنا چاہتے ہیں تاکہ غزہ کے متاثرین کو خوراک، پناہ، صفائی اور نفسیاتی مدد فراہم کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کے بچوں کے پاس اب گھر، تعلیم، صاف پانی اور مناسب علاج تک نہیں۔ سب کچھ خیموں میں ہو رہا ہے۔
کویت میں فلسطینی والدین کے گھر پیدا ہونے والے مصطفیٰ سلامہ نے ایک مہاجر کیمپ میں پرورش پائی۔ انہوں نے بتایا کہ 2004 میں ایک خواب نے ان کی زندگی بدل دی، جس میں وہ خود کو ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی پر اذان دیتے دیکھ رہے تھے۔
اسی خواب کے بعد انہوں نے کوہ پیمائی شروع کی اور 2008 میں اپنی تیسری کوشش میں ماؤنٹ ایورسٹ سر کر لیا۔اس کے بعد وہ دنیا کی ساتوں بلند ترین چوٹیوں اور شمالی و جنوبی قطب تک پہنچنے کا اعزاز بھی حاصل کر چکے ہیں۔
مصطفیٰ سلامہ کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد صرف پہاڑ سر کرنا نہیں بلکہ غزہ کے بچوں کی آواز دنیا تک پہنچانا ہے۔دنیا فلسطین کے معاملے پر آنکھیں بند کر رہی ہے۔ اگر ہم تھوڑی سی تبدیلی بھی لا سکیں تو میں خوش ہوں گا۔
انہوں نے اپنی آخری خواہش بیان کرتے ہوئے کہا کہ میرا خواب ہے کہ ایک دن فلسطین آزاد ہو اور ہم وہاں آزادانہ جا سکیں۔


