دنیا تباہی کے دہانے پر؟ ڈومز ڈے کلاک نے خطرے کی نئی گھنٹی بجا دی

دنیا کو ایٹمی جنگ، ماحولیاتی تباہی اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے خطرات کا سامنا ہے، اور اب سائنسدانوں نے انسانیت کیلئے ایک نئی خوفناک وارننگ جاری کر دی ہے۔

بلیٹن آفدیایٹامک سائینٹسٹ کی جانب سے جاری کی جانے والی مشہور ڈومز ڈے کلاک کو مزید 4 سیکنڈ آگے بڑھا دیا گیا ہے، جس کے بعد دنیا اب علامتی طور پر “نصف شب” یعنی عالمی تباہی سے صرف 85 سیکنڈ دور رہ گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ 1947 میں گھڑی کے آغاز کے بعد سے اب تک کا سب سے خطرناک مرحلہ تصور کیا جا رہا ہے۔

ڈومز ڈے کلاک دراصل کوئی حقیقی گھڑی نہیں بلکہ ایک علامتی نظام ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انسانیت خود اپنی تباہی کے کتنے قریب پہنچ چکی ہے۔ اس تصور کو دوسری جنگِ عظیم کے بعد ان سائنسدانوں نے متعارف کرایا تھا جو ایٹمی ہتھیاروں اور عالمی سلامتی کے خطرات پر تشویش رکھتے تھے۔

جب یہ گھڑی پہلی بار 1947 میں متعارف کرائی گئی تو اسے تباہی سے 7 منٹ پہلے پر سیٹ کیا گیا تھا، جبکہ 1991 میں سرد جنگ کے خاتمے کے بعد اسے 17 منٹ پیچھے کر دیا گیا تھا، جو تاریخ کا سب سے محفوظ دور سمجھا جاتا ہے۔

تاہم حالیہ برسوں میں صورتحال مسلسل خراب ہوتی گئی۔ 2023 میں گھڑی 90 سیکنڈ پہلے پر تھی، 2025 میں 89 سیکنڈ رہ گئی، اور اب 2026 میں صرف 85 سیکنڈ کا فاصلہ باقی رہ گیا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق امریکا ، روس اور چین کے درمیان بڑھتی ایٹمی کشیدگی، عالمی جنگی تنازعات، ماحولیاتی بحران اور مصنوعی ذہانت کے بے قابو استعمال نے خطرات میں خطرناک حد تک اضافہ کر دیا ہے۔

ماہرین نے پہلی بار اےآئی کو بھی عالمی تباہی کے بڑے خطرات میں شامل کیا ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت غلط معلومات، سائبر جنگ، خودکار ہتھیاروں اور فوجی فیصلوں میں سنگین غلطیوں کا سبب بن سکتی ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی طاقتوں نے فوری اور ذمہ دارانہ اقدامات نہ کیے تو دنیا ایک ایسے بحران کی طرف بڑھ سکتی ہے جس کے نتائج پوری انسانیت کیلئے تباہ کن ہوں گے۔