جمعہ، ہفتہ یا اتوار… ٹرمپ نے ایران پر نئے حملے کی ڈیڈ لائن دے دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور چین کے حوالے سے انتہائی اہم اور سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران اس وقت شدید دباؤ میں ہے اور امریکا کے ساتھ ڈیل کرنے کے لیے بھیک مانگ رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے ایران کو کڑی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی معاہدہ طے نہیں پاتا تو امریکی افواج کو ایران پر دوبارہ حملہ کرنا پڑ سکتا ہے اور یہ کارروائی آئندہ چند روز میں ہی ہو جائے گی۔

حملے کا وقت بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرا مطلب ہے، اگلے دو تین دن، شاید جمعہ، ہفتہ، اتوار یا پھر اگلے ہفتے کے شروع میں۔ یہ ایک محدود وقت کے لیے ہوگا کیونکہ ہم کسی بھی صورت ایران کو نیا جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے بیجنگ اور تہران کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ چین ایران کو کسی قسم کے ہتھیار نہیں بھیج رہا۔

ٹرمپ نے چینی ہم منصب کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ایک خوبصورت وعدہ ہے۔ میں ان کی بات پر یقین کرتا ہوں اور میں نے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بیجنگ نے ان تمام رپورٹس کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا تھا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چین ایران کو اسلحہ فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کے اس تازہ بیان نے خطے میں فوجی اور سیاسی ہلچل کو مزید تیز کر دیا ہے۔