امریکا کے شہر لاس ویگاس میں اس ہفتے ہونے والے متنازع اینہانسڈ گیمز نے کھیلوں کی دنیا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں ایتھلیٹس کو کارکردگی بڑھانے والی ممنوعہ ادویات استعمال کرنے کی کھلی اجازت دی گئی ہے۔
اس غیر روایتی ایونٹ میں اسپرنٹرز، تیراک اور ویٹ لفٹرز بغیر کسی ڈوپنگ پابندی کے حصہ لے رہے ہیں۔ منتظمین کے مطابق مقابلوں کا مقصد انسانی صلاحیتوں کی حدوں کو آگے بڑھانا ہے، جبکہ ناقدین اسے کھلاڑیوں کی صحت کے لیے خطرناک قرار دے رہے ہیں۔
جرمن ارب پتی سرمایہ کار اور بائیو ہیکنگ کے حامی کرسچین انگیرمیئر نے ایونٹ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انسان ہمیشہ سے خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا آیا ہے۔ ان کے مطابق یونانی دیومالا اور “ہیرو” کا تصور بھی غیر معمولی انسانی صلاحیتوں پر مبنی تھا۔
دوسری جانب عالمی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کے سربراہ وایٹولڈ بنکا نے اینہانسڈ گیمز کو “خطرناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے مقابلوں کو روکا جانا چاہیے۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ یہ رجحان نوجوانوں کو بغیر طبی نگرانی خطرناک ادویات کے استعمال پر اکسا سکتا ہے۔
منتظمین کے مطابق مقابلوں میں شریک 91 فیصد ایتھلیٹس ٹیسٹوسٹیرون، 79 فیصد ہیومن گروتھ ہارمون جبکہ 29 فیصد اینابولک اسٹیرائیڈز استعمال کر رہے ہیں۔ کئی کھلاڑیوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی جسمانی کارکردگی اور ریکوری میں غیر معمولی بہتری آئی ہے۔
سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ ان ادویات کے طویل مدتی اثرات دل، جگر اور گردوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم اینہانسڈ گیمز کے حامیوں کا کہنا ہے کہ استعمال ہونے والی تمام ادویات امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن سے منظور شدہ ہیں اور کھلاڑیوں کی مکمل میڈیکل اسکریننگ کی جا رہی ہے۔


