اہم ترین

بھارت میں ایک اور تاریخی مسجد شہید کردی گئی، قبرستان بھی نہ چھوڑا

بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر وارانسی میں ہندانتہا پسند انتظامیہ نے تقریباً دو سو سال قدیم ازغیب شہید مسجد کو رات کی تاریکی میں ناصرفشہیدکردیا بلکہ راتوںرات ملبہبھی ہٹا دیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق دو اور 3 جون کی درمیانی رات وارانسی (پرانانام بنارس)کی انتظامیہ نے بھاری نفری کی موجودگی میں مسجد کو بلڈوزرز کے ذریعے منہدم کر دیا، جبکہ اس سے ملحقہ مزار اور قبرستان کے بعض حصوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔

رپورٹس کے مطابق کارروائی کے لیے ایک ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ علاقے کو چاروں جانب سے گھیر کر عام شہریوں کی آمدورفت محدود کر دی گئی جبکہ میڈیا نمائندوں کو بھی موقع پر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

بتایا جاتا ہے کہ تقریباً 42 فٹ بلند تاریخی مسجد کو پانچ بلڈوزرز کی مدد سے صرف 22 منٹ میں گرا دیا گیا۔

عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کے مطابق مسجد کے انہدام کے بعد ملبہ فوری طور پر ٹرکوں میں بھر کر منتقل کر دیا گیا، جس کے باعث صبح کے وقت وہاں سے گزرنے والے افراد کو مسجد یا مزار کے آثار بھی نظر نہیں آئے۔ اس تیز رفتار کارروائی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے اور سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے بحث جاری ہے۔

ازغیب شہید مسجد کو مقامی سطح پر تاریخی اور مذہبی اہمیت حاصل تھی اور یہ کئی نسلوں سے علاقے کی شناخت کا حصہ سمجھی جاتی تھی۔

مسجد کی مسماری کی وجوہات اور قانونی حیثیت کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آ رہے ہیں، تاہم اس معاملے نے ایک بار پھر بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق کارروائیوں پر بحث چھیڑ دی ہے۔

پاکستان