سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق آج سے تقریباً 5500 سال پہلے روس کے خطے سائبیریا میں جھیل بیکال کے قریب رہنے والے قدیم شکاریوں اور خوراک جمع کرنے والے انسانوں کی بستیوں میں طاعون کی ہلاکت خیز وبا پھیلی تھی، جس نے پوری بستیوں ہی کو مٹا دیا تھا۔
اب تک طاعون کو عام طور پر قرونِ وسطیٰ کے گنجان آباد شہروں اور چوہوں سے جوڑا جاتا تھا، جس نے 1300 عیسوی سے 1800 عیسوی کے دوران یورپ میں کروڑوں انسانوں کی جان لی تھی۔ تاہم آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹی کے محققین نے جب جھیل بیکال کے قریب قدیم قبروں سے ملنے والے 46 ڈھانچوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا، تو ان میں سے 40 فیصد کے اندر طاعون کا سبب بننے والا بیکٹیریا (یرسینیا پیسٹس) پایا گیا۔ ان ڈھانچوں پر تشدد یا کسی چوٹ کا کوئی نشان نہیں تھا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ سب اچانک کسی موذی وبا کا شکار ہوئے تھے۔
کیمبرج یونیورسٹی کے ماہرِ جینیات ایسکے ولرسلیو کے مطابق اس سے قبل مشہور برطانوی مصنف یووال نوح ہراری (کتاب سیپینز کے مصنف) اور جیرڈ ڈائمنڈ جیسے دانشور اپنی کتابوں میں ہنٹر گیدررز کے دور کو بیماریوں سے پاک ایک سنہرا دور قرار دیتے تھے، کیونکہ وہ چھوٹے گروہوں میں رہتے تھے اور مسلسل سفر میں رہتے تھے۔ لیکن اس تحقیق نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ دور اتنا آسان نہیں تھا اور طاعون وہاں بہت عام تھا۔
تحقیق کے سربراہ روئیرڈ میکلوڈ نے انکشاف کیا کہ قرونِ وسطیٰ کے برعکس ان قدیم انسانوں میں طاعون چوہوں نے نہیں بلکہ تارباگان مارموٹ نامی گلہری نما نیولے سے پھیلا تھا۔ مارموٹ کو طاعون کا اصل گڑھ مانا جاتا ہے۔ قدیم انسانوں نے اس جانور کے گوشت یا کھال کے لیے اس کا شکار کیا ہوگا جس سے یہ جراثیم انسانوں میں منتقل ہوئے اور پھر کھانسی یا سانس کے ذریعے پوری بستی میں پھیل گئے۔
آج بھی سائبیریا اور منگولیا میں مارموٹ کے شکار کی وجہ سے طاعون کے کیسز سامنے آتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قدیم تاریخ کو سمجھنے سے ہمیں مستقبل میں جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی نئی وبائی بیماریوں (جیسے کورونا یا دیگر وائرس) کے خطرات سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔











