اہم ترین

امریکا اور ایران نے ابتدائی امن معاہدے پر دستخط کر دیے

پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دونوں ممالک نے ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ پر دستخط کر دیے ہیں۔ م عاہدے کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی کو مزید 60 روز تک برقرار رکھنا، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنا اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق باضابطہ سفارتی مذاکرات کا آغاز کرنا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے کی ہارڈ کاپی پر دستخط کیے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں کی جانب سے دیے گئے عشائیے میں شرکت کے بعد محل ورسائی سے روانگی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے مختصر الفاظ میں تصدیق کی کہ ’’معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں۔‘‘

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اعلان کیا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مفاہمتی یادداشت پر ڈیجیٹل دستخط کیے ہیں۔ بعد ازاں ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے نے صدر پزشکیان کی دستخط شدہ دستاویز کے ساتھ تصویر بھی نشر کی۔

پاکستانی حکومت کے مطابق دونوں فریقین کے دستخط مکمل ہونے کے بعد معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس پیش رفت کو خطے میں امن، استحکام اور سفارت کاری کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’’مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ آج امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک طور پر دستخط ہو گئے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ اس یادداشت پر دونوں ممالک کے صدور نے دستخط کیے ہیں جبکہ بطور ثالث انہوں نے بھی اس کی توثیق کی ہے۔ ان کے بقول اعلیٰ ترین سطح پر ہونے والے یہ دستخط اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ تمام فریق تنازع کے سفارتی حل کے لیے سنجیدہ ہیں۔

وزیراعظم کے مطابق معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے گا، جبکہ امریکا بحری محاصرہ ختم کرے گا تاکہ عالمی تجارتی سرگرمیاں معمول پر آ سکیں۔ آبنائے ہرمز کو دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔

معاہدے میں جنگ بندی کو مزید 60 روز تک برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور اقتصادی پابندیوں سمیت دیگر اہم معاملات پر باضابطہ مذاکرات شروع کرنے کی راہ بھی ہموار کی گئی ہے۔

پاکستان