اہم ترین

افغانستان میں سرکاری ملازمین کے لئےاسمارٹ فون پر پابندی، خلاف ورزی پر قید کا حکم

افغانستان میں طالبان حکومت کے امیر ہبت اللہ اخوندزادہ کے مبینہ حکم پر ملک بھر کے تمام سرکاری ملازمین کے اسمارٹ فونز استعمال کرنے پر سخت پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے کے بعد مختلف صوبوں میں فوجی اور سول محکموں کے ملازمین نے اپنے اسمارٹ فونز بند کرنا شروع کر دیے ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے سپریم کورٹ کے لوگو والے ایک مکتوب کے مطابق، اس پابندی سے استثنیٰ صرف سپریم لیڈر ہی دے سکتے ہیں اور اب ملازمین ۔

اے ایف پی کے مطابق طالبان امیر کے نئے حکم کے بعد اب افغانستان کے سرکاری ملازم صرف روایتی فون کالز اور ای میل کے ذریعے ہی رابطہ کر سکیں گے۔ صوبہ غزنی میں بلدیاتی ملازمین کو وارننگ دی گئی ہے کہ اسمارٹ فون استعمال کرنے پر نوکری سے برطرفی اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بدخشاں میں انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے ایک ملازم نے انکشاف کیا کہ زبانی حکم نامے کے مطابق اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو 6 ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

طالبان حکومت کے اس فیصلے کو سرکاری ملازمین نے نہایت دل شکستہ قرار دیا ہے کیونکہ اس سے روزمرہ کے دفتری امور شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ بدخشاں میں محکمہ ٹرانسپورٹ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ وہ کارگو کی نقل و حرکت مانیٹر کرنے کے لیے واٹس ایپ کا استعمال کرتے تھے، جس کے بغیر اب کام کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔

اسی طرح ایک اسکول ٹیچر نے بتایا کہ ان کا اسمارٹ فون ضبط کر کے وارننگ کے ساتھ واپس کیا گیا، جبکہ وہ اس فون کے ذریعے طلبہ سے ہوم ورک اور ان کے مسائل کے حل کے لیے رابطے میں رہتے تھے۔ محکمہ تعلیم کے ایک اور ملازم نے پشیمانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسمارٹ فون میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹولز کی مدد سے سرکاری زبان پشتو اور مقامی زبان ‘دری’ کے درمیان ترجمہ کر کے وزارت کو جواب بھیجتے تھے، مگر اب وہ نہیں جانتے کہ کام کیسے چلے گا۔

واضح رہے کہ طالبان حکومت اپنے سخت قوانین کے لیے جانی جاتی ہے اور اس سے قبل پچھلے سال بھی کئی صوبوں میں انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورک کو اچانک بند کیا گیا تھا، جس سے بینکنگ اور اسپتالوں کا نظام شدید مفلوج ہو گیا تھا۔

پاکستان