اہم ترین

بجلی، گیس کا بڑھتا گردشی قرض حکومت کے لیے نیا چیلنج

بجلی اور گیس کے شعبوں کا بڑھتا ہوا گردشی قرض حکومت کے لیے ایک نیا چیلنج بن گیا ہے۔ بجلی کا گردشی قرض آئی ایم ایف کی مقررہ حد سے 130 ارب روپے سے زائد ہو چکا ہے، جس کے باعث حکومت کو توانائی کے شعبے میں مالی دباؤ کم کرنے کے لیے متبادل حکمت عملی پر غور کرنا پڑ رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف نے بجلی کے گردشی قرضے کو 1600 ارب روپے تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کر رکھا تھا، تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے گردشی قرضے میں مزید اضافہ کیا۔

وزیراعظم نے بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کے بجائے معاشی ٹیم کو متبادل پلان تیار کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ وزیراعظم کا مؤقف ہے کہ بجلی اور گیس کی قیمتیں مزید بڑھانا کسی طور ممکن نہیں، اس لیے ایسا درمیانی راستہ تلاش کیا جائے جس سے عوام پر اضافی بوجھ ڈالے بغیر توانائی کے شعبے کے مالی مسائل کو قابو کیا جا سکے۔

وزیراعظم نے معاشی ٹیم کو گردشی قرضے کے مسئلے کا قابلِ عمل حل تلاش کرنے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے لیے تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

دوسری جانب پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان قرض پروگرام کے آئندہ جائزے کے لیے مذاکرات اگلے ماہ ہونے کا امکان ہے۔ مذاکرات کے دوران پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف کو قرض پروگرام کے اسٹرکچرل بینچ مارکس پر عمل درآمد کے حوالے سے بریفنگ دی جائے گی۔

مذاکرات میں بجلی اور گیس کے شعبوں کے گردشی قرضے سے متعلق مقررہ اہداف پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوگا، جبکہ توانائی کے شعبے میں نئی اصلاحات کا معاملہ بھی مذاکرات کا اہم حصہ ہوگا۔

آئی ایم ایف جائزے میں پاکستان کی پیش رفت سے متعلق اطمینان کی صورت میں قرض پروگرام کی پانچویں قسط جاری ہونے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اگلی قسط کی مالیت تقریباً ایک ارب ڈالر ہونے کا امکان ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو تقریباً 20 کروڑ ڈالر کی اضافی مالی معاونت ملنے کا بھی امکان ہے۔

حکومت کو ایک جانب آئی ایم ایف کے مقررہ اہداف پورے کرنے اور دوسری جانب عوام پر بجلی و گیس کی قیمتوں میں مزید اضافے کا بوجھ نہ ڈالنے کے درمیان توازن قائم کرناہے۔ یہی معاملہ آئندہ آئی ایم ایف مذاکرات میں بھی حکومت کے لیے اہم چیلنج بن سکتا ہے۔

پاکستان