اہم ترین

ڈیٹا سینٹرز کے بجلی کی ضرورت: اے آئی کمپنی کی پاور پلانٹس کی دوڑ

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں تیزی کے باعث امریکا میں ٹیکنالوجی کمپنیاں ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنے نجی گیس پاور پلانٹس لگانے لگی ہیں، جس سے ماحولیاتی آلودگی اور کاربن اخراج میں نمایاں اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

تحقیقی ادارے کلین ویو کے تجزیے کے مطابق امریکا میں آئندہ چند برسوں کے دوران تقریباً 60 ڈیٹا سینٹرز کے منصوبے زیرِ غور ہیں، جن کے لیے 2030 کی دہائی کے آغاز تک مجموعی طور پر 97 گیگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی بی ہائنڈ دی میٹر صلاحیت قائم کی جا سکتی ہے۔ یہ گنجائش تقریباً میکسیکو کی مجموعی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے برابر ہے۔

تجزیے کے مطابق ان گیس پاور پلانٹس سے سالانہ 20 کروڑ ٹن سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہونے کا امکان ہے، جو 4 کروڑ 60 لاکھ سے زائد پٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کے سالانہ اخراج کے برابر ہے۔

تازہ ترین منصوبوں میں ٹیکساس میں 7.5 گیگاواٹ کا پاور پلانٹ بھی شامل ہے، جو ایمیزون کے ڈیٹا سینٹرز کو بجلی فراہم کرے گا۔ منصوبے کے لیے فضائی آلودگی کے اجازت نامے جنوری میں جاری ہوئے، جبکہ ایمیزون کو گزشتہ ہفتے تعمیراتی اجازت مل گئی۔ سیٹلائٹ تصاویر سے بھی منصوبے کی جگہ پر تعمیراتی سرگرمیوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

گیس پلانٹس سے آلودگی کا خدشہ

ماہرین کے مطابق گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس صرف گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا باعث نہیں بنتے بلکہ ان سے باریک ذرات، نائٹروجن آکسائیڈز اور پارہ، فارمل ڈی ہائیڈ اور بینزین جیسے خطرناک فضائی آلودہ عناصر بھی خارج ہوتے ہیں، جو انسانی صحت خصوصاً دل اور پھیپھڑوں کے مسائل میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔

یونین آف کنسرنڈ سائنٹسٹس سے وابستہ جان راجرز نے خبردار کیا کہ ڈیٹا سینٹرز کو گیس یا ڈیزل ٹربائنز کے ذریعے بی ہائنڈ دی میٹر بجلی فراہم کرنا مقامی آبادی کی فضا میں غیر ضروری آلودگی بڑھانے کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی کو بھی مزید سنگین کر سکتا ہے۔

نیشنل ریسورسز ڈیفنس کونسل کی پالیسی تجزیہ کار یوکی ژو کے مطابق ایسے پاور پلانٹس پر عوامی نگرانی بھی نسبتاً کم ہوتی ہے، جبکہ شدید گرمی اور جنگلات کی آگ کے بڑھتے واقعات کے دوران آلودگی میں اضافے کی اجازت دینا تشویش ناک ہے۔

میٹا، مائیکروسافٹ اور اوریکل بھی دوڑ میں شامل

اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے نجی بجلی پیدا کرنے کا رجحان ابتدائی طور پر ایک غیر معمولی اقدام کے طور پر سامنے آیا تھا، جب ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی نے 2024 میں میمفس میں اپنے ڈیٹا سینٹر کو بجلی فراہم کرنے کے لیے موبائل گیس ٹربائنز استعمال کی تھیں۔ کلین ویو کے مطابق آج آن لائن موجود تقریباً دو گیگاواٹ ’بہائنڈ دی میٹر‘ بجلی میں ایکس اے آئی کا حصہ نمایاں ہے۔

اب یہ رجحان تقریباً تمام بڑے ہائپر اسکیلرز تک پھیل چکا ہے، جن میں میٹا، مائیکروسافٹ اور اوریکل شامل ہیں۔ اے آئی لیبز اوپن اے آئی اور اینتھروپک بھی 10 گیگاواٹ سے زیادہ ’بہائنڈ دی میٹر‘ بجلی کے منصوبوں کے لیے لیز معاہدے کر چکی ہیں۔

کمپنیاں روایتی گرڈ انفرااسٹرکچر کے بجائے ٹریلر پر نصب جنریٹرز، ہوائی جہازوں اور جنگی بحری جہازوں کے لیے تیار کی گئی ٹربائنز، گاڑیوں میں استعمال ہونے والے پسٹن انجنز اور صنعتی شعبے سے حاصل کردہ پرانی ٹربائنز تک استعمال کر رہی ہیں۔

ٹیکساس سب سے آگے

ایسے منصوبوں کا رجحان ری پبلکن اکثریتی ریاستوں میں زیادہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ ٹیکساس 40 گیگاواٹ سے زائد اعلان شدہ صلاحیت کے ساتھ سب سے آگے ہے۔

دوسری جانب شہری حقوق کی تنظیم این اے اے سی پی نے ایکس اے آئی کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کمپنی نے میمفس ڈیٹا سینٹر کو بجلی فراہم کرنے کے لیے مسیسیپی میں ٹربائنز غیر قانونی طور پر چلائیں۔

ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر ایسے منصوبوں کو قانونی اور ماحولیاتی رکاوٹوں سے استثنیٰ ملتا رہا تو ملک بھر میں ڈیٹا سینٹرز کے لیے نجی گیس پاور پلانٹس لگانے کا رجحان مزید تیز ہو سکتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں نئی فوسل فیول بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں گزشتہ برسوں کے دوران کمی آئی تھی، تاہم اے آئی بوم کے آغاز کے ساتھ یہ رجحان دوبارہ تبدیل ہو رہا ہے۔ 2026 کی پہلی ششماہی میں اعلان کردہ نئی فوسل فیول بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت گزشتہ 10 برس کی کسی بھی سالانہ سطح کے مقابلے میں زیادہ رہی۔

پاکستان