اہم ترین

بحر اوقیانوس میں برڈ فلو کی یلغار: مہلک وائرس سے ہزاروں سیلز ہلاک

برڈ فلو کی انتہائی خطرناک قسم ایچ 5 نے سب انٹارکٹک خطے میں واقع دور افتادہ جزائر پر جنگلی حیات کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جہاں 13 ہزار سے زائد ایلیفنٹ سیلز کے بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔ آسٹریلوی سائنس دانوں نے جمعرات کو جاری کردہ رپورٹ میں اس غیر معمولی تباہی کی تصدیق کی ہے۔

تحقیقی ٹیم جب اکتوبر 2025 میں آسٹریلیا کے زیر انتظام دور افتادہ ہرڈ اور میکڈونلڈ جزائر پہنچی تو وہاں سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں مردہ سیل بکھرے ہوئے پائے گئے۔ بعد ازاں جینیاتی تجزیوں سے معلوم ہوا کہ متعدی ایچ 5برڈ فلو وائرس نے نہ صرف ہاتھی سیل بلکہ پینگوئنز اور دیگر پرندوں کو بھی متاثر کیا تھا۔

آسٹریلین انٹارکٹک پروگرام کے محققین کے مطابق جنوبی ہاتھی سیل کے نومولود بچے اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ بعض افزائشی کالونیوں میں شرح اموات 97 فیصد تک ریکارڈ کی گئی، جس نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

اکتوبر 2025 اور جنوری 2026 کے دوران کیے گئے زمینی اور فضائی سرویز میں مجموعی طور پر 13300 مردہ سیل بچوں کی گنتی کی گئی، جو اس وبا کے انتہائی مہلک اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔

ماہر حیاتیات جولی مک لینز کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب ایچ 5برڈ فلو وائرس آسٹریلیا کے کسی بیرونی علاقے میں دریافت ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وائرس مشرق کی جانب مسلسل پھیل رہا ہے، جو جنگلی حیات کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔

تحقیق کے مطابق وائرس غالباً اگست 2025 میں متاثرہ پرندوں یا دیگر جنگلی جانوروں کے ذریعے کروزیٹ آئی لینڈ سے منتقل ہوا، جو متاثرہ جزائر سے تقریباً 1,500 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہیں۔

ہرڈ اینڈ مک ڈونلڈ آئی لینڈز انسانی آبادی سے خالی، انتہائی دشوار گزار اور قدرتی حیات کے لیے اہم افزائشی مراکز سمجھے جاتے ہیں۔ یہ جزائر آسٹریلیا کے مرکزی علاقے سے تقریباً 4000 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہیں اور یہاں رسائی صرف آسٹریلوی حکومت کی خصوصی اجازت سے ممکن ہے۔

یہی جزائر اپریل 2025 میں اس وقت عالمی خبروں کا حصہ بنے تھے جب انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تجارتی محصولات (ٹیرف) سے متعلق فہرست میں شامل کیا گیا تھا، حالانکہ یہ علاقے مستقل انسانی آبادی سے محروم ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ برڈ فلو کے اس پھیلاؤ نے ایک بار پھر یہ ظاہر کر دیا ہے کہ متعدی امراض اب دنیا کے انتہائی دور دراز اور غیر آباد ماحولیاتی نظاموں تک بھی پہنچ رہے ہیں، جس کے جنگلی حیات پر طویل مدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

پاکستان