اہم ترین

بین اسٹوکس کی ریٹائرمنٹ: انگلینڈ کو کپتان اور آل راؤنڈر کی تلاش کا چیلنج

ناٹنگھم: انگلینڈ کے ٹیسٹ کپتان اور اسٹار آل راؤنڈر بین اسٹوکس نے نیوزی لینڈ کے خلاف جاری تیسرے ٹیسٹ میچ کے دوران بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر کے کرکٹ دنیا کو حیران کر دیا۔

35 سالہ اسٹوکس نے کہا کہ چار برس تک انگلینڈ کی قیادت کرنے کے بعد وہ ذہنی اور جسمانی طور پر مکمل طور پر تھک چکے ہیں اور اب مزید بین الاقوامی کرکٹ جاری رکھنا ان کے لیے ممکن نہیں رہا۔

ریٹائرمنٹ کے اعلان کے باوجود اسٹوکس نے میدان میں شاندار کارکردگی دکھائی۔ ناٹنگھم کے ٹرینٹ برج میں تماشائیوں نے انہیں کھڑے ہو کر خراجِ تحسین پیش کیا، جس کے فوراً بعد انہوں نے اپنی اگلی ہی گیند پر نیوزی لینڈ کے بیٹر کو آؤٹ کر دیا۔

نیوزی لینڈ نے دوسری اننگز میں ڈیرل مچل کی ذمہ دارانہ سنچری کی بدولت انگلینڈ کو جیت کے لیے 373 رنز کا ہدف دیا۔ ہدف کے تعاقب میں اسٹوکس نے خود کو اوپننگ کے لیے بھیجا اور صرف 20 گیندوں پر جارحانہ 30 رنز بنائے، جس میں دو چھکے شامل تھے، تاہم وہ بڑی اننگز کھیلنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

چوتھے روز کے اختتام پر انگلینڈ نے 103 رنز پر 4 وکٹیں گنوا دی تھیں اور اسے شکست کے ساتھ سیریز 2-1 سے ہارنے کا خطرہ لاحق تھا۔

اسٹوکس نے میچ کے بعد کہا کہ انگلینڈ کی قیادت کرنا ان کے لیے سب سے بڑا اعزاز تھا، لیکن مسلسل ذمہ داریوں نے انہیں ذہنی طور پر نڈھال کر دیا۔ لارڈز ٹیسٹ میں کامیابی کے لیے انہوں نے اپنی تمام توانائیاں صرف کر دیں اور انہیں محسوس ہوا کہ وہ مکمل طور پر برن آؤٹ ہو چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ چند ہفتے قبل ہی انہیں احساس ہو گیا تھا کہ ریٹائرمنٹ کا وقت آ پہنچا ہے، جبکہ ہفتے کے روز بیٹنگ کے لیے پیڈ باندھتے ہوئے انہیں یقین ہو گیا کہ اب ان کا بین الاقوامی سفر اختتام کو پہنچنے والا ہے۔

بین اسٹوکس نے واضح کیا کہ وہ بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہو رہے ہیں، تاہم کاؤنٹی کرکٹ میں ڈرہم کی نمائندگی جاری رکھیں گے۔ ڈرہم واپس جا کر انہیں کرکٹ سے دوبارہ محبت محسوس ہوئی، مگر انگلینڈ کی نمائندگی کرتے ہوئے وہ وہی جذبہ دوبارہ حاصل نہ کر سکے۔

اسٹوکس کی ریٹائرمنٹ کے بعد انگلش کرکٹ کو ایک نئے کپتان اور ان جیسے میچ ونر آل راؤنڈر کی تلاش کا بڑا چیلنج درپیش ہوگا۔ اگرچہ ہیری بروک موجودہ نائب کپتان ہیں، لیکن حالیہ تنازعات اور غیر مستقل کارکردگی کے باعث ان کی قیادت کی صلاحیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں، جبکہ سابق کپتان جو روٹ بھی دوبارہ قیادت سنبھالنے کے مضبوط امیدوار نہیں سمجھے جا رہے۔ انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل ایتھرٹن نے بھی اپنی رائے میں لکھا کہ ہیری بروک اس وقت ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کے لیے موزوں امیدوار دکھائی نہیں دیتے۔

پاکستان