برطانیہ میں ایک بار پھر سیاسی تبدیلی آ گئی ہے اور اینڈی برنہم نے ملک کے نئے وزیراعظم کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ 2016 کے بعد برطانیہ کو یہ ساتواں وزیراعظم ملا ہے، جس پر عوام نے سیاسی عدم استحکام اور مسلسل قیادت کی تبدیلی پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اینڈی برنہم کو بادشاہ چارلس سوم نے حکومت بنانے کی دعوت دی، جس کے بعد انہوں نے وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالا۔ سابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے استعفے کے بعد برنہم کو حکمران جماعت لیبر پارٹی نے قیادت کے لیے منتخب کیا۔
اسٹارمر نے 2024 کے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کو تاریخی کامیابی دلوائی تھی، تاہم وہ صرف دو سال اقتدار میں رہنے کے بعد عہدے سے الگ ہو گئے۔
لندن کے شہریوں نے نئے وزیراعظم کے حوالے سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا۔ 65 سالہ کنسلٹنٹ کلیئر واکر نے کہا کہ وہ ابھی تک اینڈی برنہم کے بارے میں کوئی واضح رائے قائم نہیں کر سکیں، کیونکہ انہیں معیشت بہتر بنانے کے حوالے سے کوئی ٹھوس منصوبہ نظر نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر برنہم اپنی باتوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے میں کامیاب رہے تو آنے والے دو سے تین سال برطانیہ کے لیے بہتر ثابت ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب لندن کے ایک شہری جیمی بی نے سیاسی تبدیلیوں پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ زیادہ سیاسی شخص نہیں، لیکن دس سال میں سات وزرائے اعظم آنا عوام کے لیے تھکا دینے والی صورتحال ہے۔
گریٹر مانچسٹر کے سابق میئر اینڈی برنہم کو ان کی علاقائی سیاست اور شمالی انگلینڈ کے مسائل اجاگر کرنے کی وجہ سے کنگ آف دی نارتھ کہا جاتا ہے۔
نئے وزیراعظم نے لندن سے باہر کے علاقوں کو زیادہ اختیارات دینے، رہائش کے مسائل حل کرنے، بے گھری کم کرنے اور عام شہریوں کے لیے زندگی کے اخراجات میں کمی لانے کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔
برنہم نے چھوٹے کاروباروں پر مالی دباؤ کم کرنے اور مزید سوشل ہاؤسنگ بنانے کے منصوبوں کا بھی وعدہ کیا ہے۔
تاہم کچھ شہریوں نے ان کے وزیراعظم بننے کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ لندن کے آرٹ ڈیلر چارلس یوچیوبی کا کہنا تھا کہ چونکہ برنہم براہِ راست عوامی ووٹ سے وزیراعظم نہیں بنے، اس لیے انہیں نیا مینڈیٹ حاصل کرنے کے لیے انتخابات کرانے چاہئیں۔
لندن کے ایک پب میں کام کرنے والے 26 سالہ کیڈ موئیسز نے بھی تبدیلی کے باوجود زیادہ امید کا اظہار نہیں کیا۔ ان کے مطابق ابھی تک نئے وزیراعظم کی جانب سے بڑے اعلانات سامنے نہیں آئے اور عام لوگوں کی زندگی فوری طور پر آسان ہوتی نظر نہیں آ رہی۔
مانچسٹر کے نوجوانوں میں تاہم برنہم کے لیے کچھ امید پائی جاتی ہے۔ طالب علم جوئل میک کولوچ نے کہا کہ انہوں نے مانچسٹر کے لیے برنہم کے کام کو دیکھا ہے اور انہیں امید ہے کہ ایک شمالی انگلینڈ سے تعلق رکھنے والا رہنما ملک کی سیاست میں حقیقی تبدیلی لا سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اینڈی برنہم کے لیے سب سے بڑا چیلنج عوام کا اعتماد بحال کرنا، معیشت کو سنبھالنا اور برطانیہ میں کئی برسوں سے جاری سیاسی بے یقینی کا خاتمہ ہوگا۔











