اہم ترین

ملک میں پیٹرولیم قیمتوں کے نئے نظام کا فارمولہ سامنے آگیا

وفاقی کابینہ سے منظور کیے گئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے نئے نظام کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جس کے تحت ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار تبدیل کردیا گیا ہے۔

دستاویز کے مطابق نئے نظام کے تحت آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمتیں روزانہ جاری کرے گا۔ نئی قیمتوں کا تعین گزشتہ 7 دن کی اوسط عالمی قیمتوں کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

نئے طریقۂ کار کے تحت اوگرا کو قیمتوں کے اعلان کے لیے وزیراعظم یا وفاقی حکومت کی الگ منظوری درکار نہیں ہوگی، تاہم ہفتہ اور اتوار کو گزشتہ اعلان کردہ قیمتیں ہی برقرار رکھی جائیں گی۔

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ اوگرا یکم جولائی 2026 سے روزانہ پلاٹس ریفرنس قیمتیں جاری کرے گا، جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عالمی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے مطابق ردوبدل کیا جائے گا۔

نئے نظام میں پیٹرولیم لیوی کے حوالے سے بھی قواعد واضح کیے گئے ہیں۔ دستاویز کے مطابق پیٹرولیم لیوی وفاقی کابینہ کی مقرر کردہ حد سے زیادہ عائد نہیں کی جا سکے گی، جبکہ لیوی کی شرح میں تبدیلی صرف وزارتِ خزانہ (فنانس ڈویژن) کی منظوری سے ممکن ہوگی۔

دستاویز کے مطابق مالی سال 2026-27 میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی درآمد صرف پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے ذریعے کی جائے گی، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ان کے مارکیٹ شیئر کے مطابق پیٹرول درآمد کرنے کی اجازت ہوگی۔

حکومت نے درآمدی یا اپ لفٹمنٹ کی ذمہ داری پوری نہ کرنے والی کمپنیوں کے لیے بھی سخت اقدامات تجویز کیے ہیں۔ ایسی کمپنیوں کو ڈیفالٹ کی صورت میں 9 ماہ تک نئی درآمدی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مٹی کا تیل اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتیں بھی روزانہ کی بنیاد پر مقرر کی جائیں گی۔

دستاویز میں نئے پرائسنگ میکنزم پر فوری عملدرآمد یقینی بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو عالمی مارکیٹ کے رجحانات سے زیادہ مربوط کرنا اور قیمتوں کے تعین کے عمل کو مزید شفاف بنانا ہے۔

پاکستان