افغانستان کے مشرقی صوبے نورستان میں شدید بارشوں کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ حکام کے مطابق سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 23 افراد جاں بحق جبکہ تقریباً 100 افراد لاپتا ہیں۔
صوبائی دارالحکومت پرون میں امدادی کارکن اور مقامی افراد ملبے، کیچڑ اور بڑے پتھروں تلے دبے لوگوں کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق سیلابی ریلے اپنے ساتھ بڑے بڑے پتھر لے کر آئے جنہوں نے کئی عمارتوں، دکانوں اور مارکیٹوں کو تباہ کر دیا۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ایسا خطرناک سیلاب نہیں دیکھا، ہر طرف چیخ و پکار اور خوف کا ماحول تھا۔ کئی خاندان اپنے گھر اور سامان سے محروم ہو گئے۔
افغان ہلال احمر کے مطابق صورتحال انتہائی سنگین ہے، رضاکار ہاتھوں اور بیلچوں کی مدد سے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں جبکہ متاثرین کو خوراک، پانی اور خیمے فراہم کیے جا رہے ہیں۔
افغان وزارت دفاع نے امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے فوجی دستے روانہ کر دیے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ نے بھی صورتحال کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بارشوں اور سیلاب نے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کو بھی متاثر کیا، جہاں حکام کے مطابق 12 افراد جاں بحق ہوئے۔











