اہم ترین

حماس کی قیادت میں بڑی تبدیلی، خلیل الحیہ نئے سربراہ مقرر

مقبوضہ فلسطین میں اسرائیل کے خلاف برسرپیکار تنظیم حماس نے خلیل الحیہ کو اپنا نیا سربراہ مقرر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس تقرری سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ حماس ہتھیار چھوڑنے کے مطالبات کے معاملے پر مزید سخت موقف اختیار کر سکتی ہے۔

خلیل الحیہ نے یحییٰ السنوار کی جگہ لی ہے، جو 2024 میں غزہ میں اسرائیلی کارروائی کے دوران مارے گئے تھے۔ السنوار اور اسماعیل ہنیہ کی ہلاکتوں کے بعد خلیل الحیہ حماس کی قیادت میں ایک نمایاں شخصیت کے طور پر سامنے آئے اور تنظیم کے اہم مذاکرات کار بھی رہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق خلیل الحیہ کو حماس کے بیرون ملک سیاسی دفتر کے سربراہ خالد مشعل کے مقابلے میں زیادہ سخت گیر رہنما سمجھا جاتا ہے۔ ان کے انتخاب کو تنظیم کی جانب سے مسلح مزاحمت جاری رکھنے کے پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

حماس کی قیادت کا انتخاب 50 رکنی کونسل کرتی ہے، جس میں غزہ، مغربی کنارے اور بیرون ملک موجود نمائندے شامل ہوتے ہیں۔ نئے سربراہ کا انتخاب جنگی حالات اور خطے میں کشیدگی کے باعث تاخیر کا شکار رہا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیل الحیہ کی تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حماس کو شدید فوجی دباؤ، غزہ کی تباہی اور عالمی سطح پر غیر مسلح ہونے کے مطالبات کا سامنا ہے۔ دوسری جانب جنگ بندی اور غزہ کے مستقبل کے حوالے سے مذاکرات بھی تاحال کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔

پاکستان