اہم ترین

جنگ کا انداز بدل گیا: غزہ، ایران اور یوکرین میں جدید اے آئی جنگی نظام استعمال ہونے لگے

دنیا بھر میں جنگی حکمت عملی تیزی سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی طرف منتقل ہو رہی ہے، جہاں خودکار ڈرونز، اے آئی پر مبنی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز اور ہدف کی نشاندہی کرنے والی ٹیکنالوجی روایتی عسکری فیصلوں کی جگہ لے رہی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ اے آئی جنگی کارروائیوں کی رفتار بڑھا رہی ہے، تاہم اس سے اخلاقی، قانونی اور انسانی جانوں کے تحفظ سے متعلق سنگین سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔

الجزیرہ میں شائع رپورٹ کے مطابق یوکرین، غزہ اور ایران میں جاری تنازعات کے دوران اے آئی پر مبنی نظام عملی طور پر استعمال کیے جا رہے ہیں۔ امریکی کمپنی پالانٹیر کے ماوین اسمارٹ سسٹم سمیت جدید ٹیکنالوجی سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں اہداف کی نشاندہی اور حملوں کے عمل کو چند سیکنڈز میں مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی سیٹلائٹس، ڈرونز، ریڈار، سوشل میڈیا، انٹیلی جنس رپورٹس اور دیگر ذرائع سے موصول ہونے والے ڈیٹا کا فوری تجزیہ کرکے اہداف تجویز کرتی ہے، جس سے وہ عمل جو پہلے گھنٹوں یا دنوں میں مکمل ہوتا تھا، اب چند لمحوں میں انجام دیا جا سکتا ہے۔

تاہم ناقدین کے مطابق رفتار میں اضافے کے ساتھ غلط فیصلوں کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ ایران کے شہر میناب میں ایک اسکول پر حملے کو مثال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جہاں پرانی سیٹلائٹ معلومات کی بنیاد پر حملے میں بڑی تعداد میں شہری، جن میں بچے بھی شامل تھے، مارے گئے۔ اس واقعے کی تحقیقات اب بھی مکمل نہیں ہو سکیں۔

امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ کسی بھی مہلک کارروائی کا حتمی فیصلہ انسان ہی کرے گا، تاہم ماہرین اخلاقیات اور بین الاقوامی قانون کے ماہرین کا مؤقف ہے کہ جب فیصلے سیکنڈز میں ہونے لگیں تو انسانی غوروفکر، قانونی جانچ اور اخلاقی ذمہ داری کمزور پڑ سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مصنوعی ذہانت جنگی فیصلوں کو تیز ضرور بنا سکتی ہے، لیکن انسانی جان کی قدر، اخلاقی ذمہ داری اور جنگ کے نتائج کا احساس کسی مشین میں منتقل نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان