اہم ترین

ایران کا حملے جاری رکھنے کا اعلان، مشرقِ وسطیٰ میں لڑائی مزید پھیل گئی

ایران نے اعلان کیا ہے کہ جب تک امریکہ اس کے بنیادی ڈھانچے اور ساحلی علاقوں پر حملے جاری رکھے گا، ایرانی مسلح افواج بھی جوابی کارروائیاں جاری رکھیں گی۔ دوسری جانب یمن کے حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر میزائل اور ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے سعودی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران کے فوجی اہداف پر مسلسل بارہویں رات بھی فضائی حملے کیے گئے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں کسی جہاز کو نشانہ بنائے گا تو امریکہ ایرانی پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کرے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کا دفاعی اصول واضح ہے، “جیسا حملہ، ویسا جواب”۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی حملوں میں عراق کی سرحد کے قریب دو افراد ہلاک ہوئے، جبکہ بوشہر کے علاقے میں بھی میزائل حملوں کی اطلاع دی گئی۔

ادھر بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی رسد متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 4 فیصد اضافے کے ساتھ 97.80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے الزام عائد کیا کہ ایران نے حوثیوں کو سعودی جہاز رانی پر حملوں کے لیے اکسایا، جبکہ عمان نے صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کی کوششوں کا اعلان کیا

پاکستان