اہم ترین

امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ایٹمی معاہدہ

امریکا اور سعودی عرب نے ایک اہم سول (پرامن) جوہری تعاون کے معاہدے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اس معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت ہوگی جب سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لاتے ہوئے ابراہم معاہدوں میں شامل ہوگا۔

اے ایف پی کے مطابق یہ معاہدہ سعودی عرب میں سول جوہری توانائی کے پروگرام کے قیام کی راہ ہموار کرے گا۔ اس سے امریکی کمپنیوں کو اربوں ڈالر کے منصوبے ملنے کی توقع ہے اور اسے خطے میں امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

کچھ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی کمپنیاں سعودی عرب میں یورینیم افزودگی کی تنصیب بھی قائم کر سکتی ہیں، تاہم امریکی محکمہ توانائی نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ معاہدے میں یورینیم کی افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔

امریکی اور اسرائیلی حکام سمیت متعدد ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر سعودی عرب کو افزودگی کی صلاحیت ملی تو مستقبل میں یہ خطے میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کا باعث بن سکتی ہے، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام کے تناظر میں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ کسی بھی سول جوہری معاہدے میں ایسے سخت حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے جو اس پروگرام کو فوجی یا ہتھیاروں کے مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے روکیں گے۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اسے دیگر ممالک کی طرح پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔ گزشتہ برس سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ بھی باہمی دفاعی معاہدہ کیا تھا۔

بعض ماہرین نے معاہدے کو امریکا کی روس اور چین پر سفارتی برتری قرار دیا، جبکہ دیگر نے زور دیا کہ اگر سعودی عرب میں جوہری سرگرمیاں شروع ہوں تو ان کی مکمل شفاف نگرانی اور عالمی حفاظتی اصولوں پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہوگا۔

پاکستان