اہم ترین

میٹا نے قابلِ تجدید توانائی کا عالمی عہدتوڑ دیا

واشنگٹن: سوشل میڈیا کمپنی میٹا نے قابلِ تجدید توانائی کے عالمی اقدا م آر ای 100 کی رکنیت ختم کر دی ہے۔ کمپنی نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے کے باوجود وہ اپنی بجلی کی ضروریات کو سو فیصد صاف توانائی سے پورا کرنے کے ہدف پر قائم ہے۔

برطانیہ میں قائم غیر منافع بخش ادارہ کلائمیٹ گروپ کے تحت چلنے والے آر ای 100اقدام کا مقصد بڑی عالمی کمپنیوں کو اپنی تمام بجلی قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ اس اتحاد میں ایپل، گوگل اور مائیکروسافٹ سمیت 444 بڑی کمپنیاں شامل ہیں، تاہم اب میٹا کا نام اس کی رکن کمپنیوں کی فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے۔

میٹا 2016 میں اس اقدام کا حصہ بنی تھی، لیکن حالیہ عرصے میں مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیشِ نظر کمپنی نے قدرتی گیس سے چلنے والے بجلی گھروں میں سرمایہ کاری شروع کر دی ہے۔ کمپنی نے امریکی ریاست لوزیانا میں اپنے ہائپیریئن ڈیٹا سینٹر کے لیے 10 نئے قدرتی گیس سے چلنے والے بجلی گھروں کی فراہمی کے معاہدے بھی کیے ہیں۔

کلائمیٹ گروپ کے مطابق، میٹا کی نئی گیس پر مبنی سرمایہ کاری RE100 کی تکنیکی شرائط سے مطابقت نہیں رکھتی، اسی لیے کمپنی نے اس اقدام سے علیحدگی اختیار کی۔

دوسری جانب میٹا کا کہنا ہے کہ وہ قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے اور 2020 سے سالانہ بنیاد پر اپنی بجلی کے استعمال کو سو فیصد صاف توانائی سے ہم آہنگ رکھنے کا ہدف حاصل کرتی آ رہی ہے۔ کمپنی کے مطابق، طویل المدتی بجلی خریداری کے معاہدوں کے ذریعے یہ مقصد حاصل کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق قدرتی گیس کو ماضی میں کوئلے جیسے زیادہ آلودگی پھیلانے والے ایندھن اور قابلِ تجدید توانائی کے درمیان ایک عبوری ایندھن قرار دیا جاتا رہا ہے، تاہم اس کی پیداوار اور استعمال کے دوران میتھین گیس کے اخراج اور فضائی آلودگی کے باعث اس پر ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے مسلسل تنقید کی جاتی رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق میٹا اکیلی کمپنی نہیں، بلکہ مائیکروسافٹ اور گوگل بھی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے قدرتی گیس پر مبنی بجلی کے منصوبوں سے وابستہ معاہدوں کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

پاکستان