ایرانی افواج کے ترجمان جنرل ابوالفضل شکارچی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز اور ایران کو کمزور کرنے سے متعلق اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، اور اس وقت واشنگٹن کے لیے صورتحال انتہائی “افراتفری کا شکار اور ناگفتہ بہ” ہے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق گفتگو کرتے ہوئے جنرل شکارچی نے کہا کہ امریکہ اب ایک “نئی حکمت عملی” کی تلاش میں ہے اور جنگ سے پیچھے ہٹنے کا امریکی امکان “صیہونیوں کی اجازت سے مشروط” ہے—ان کا یہ اشارہ مبینہ طور پر اسرائیل کی جانب تھا۔
دوسری جانب، ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی عدالتی، اقتصادی اور شہری ذیلی کمیٹیوں کے ساتھ مل کر ‘آبنائے ہرمز کے انتظامی امور’ سے متعلق ایک نئے مسودہ قانون کا جائزہ لے رہی ہے۔
اگرچہ ایران نے اس مجوزہ قانون کی مکمل تفصیلات عام نہیں کیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد اس اہم بحری گزرگاہ پر ملک کی حاکمیت کو مزید مضبوط کرنا اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس یا وصولیاں عائد کرنا ہے۔
اس سے قبل، مئی میں ایرانی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر علی نیک زاد نے واضح کیا تھا کہ اس مسودے کی شقوں کے تحت “اسرائیلی بحری جہازوں کو کبھی بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی”، جبکہ “متقابل یا دشمن ممالک” کے جہازوں کو اس وقت تک گزرنے کا پرمٹ نہیں ملے گا جب تک وہ جنگی نقصان کا ازالہ یا تاوان ادا نہیں کرتے۔











