پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے دوسرے روز شاندار کم بیک کرتے ہوئے میچ میں اپنی گرفت مضبوط کر لی۔ قومی ٹیم نے میزبانوں کے پہلی اننگز کے 311 رنز کے جواب میں کھیل کے اختتام تک 3 وکٹوں کے نقصان پر 199 رنز بنا لیے، جبکہ کپتان شان مسعود 88 اور سلمان علی آغا بغیر کوئی رن بنائے وکٹ پر موجود ہیں۔
پاکستان کی جانب سے اننگز کا آغاز محتاط انداز میں ہوا، تاہم اوپنر امام الحق اور شان مسعود نے دوسری وکٹ کے لیے 155 رنز کی شاندار شراکت قائم کر کے ٹیم کو مضبوط پوزیشن میں پہنچا دیا۔ امام الحق نے 102 گیندوں پر 63 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی جس میں 7 چوکے شامل تھے، جبکہ شان مسعود نے 137 گیندوں پر ناقابلِ شکست 88 رنز اسکور کیے اور اپنی اننگز میں 11 خوبصورت چوکے لگائے۔
ویسٹ انڈیز کی جانب سے کیمار روچ نے ابتدائی کامیابی حاصل کرتے ہوئے اظان اویس کو آؤٹ کیا، جبکہ بعد میں شمار جوزف نے امام الحق اور جیڈن سیلز نے بابر اعظم کو پویلین بھیج کر کچھ مزاحمت کی۔ بابر اعظم دن کے اختتام سے کچھ دیر پہلے آؤٹ ہوئے، جس سے پاکستان کو تیسری وکٹ کا نقصان اٹھانا پڑا۔
اس سے قبل ویسٹ انڈیز نے اپنی پہلی اننگز 311 رنز پر ختم کی۔ شائی ہوپ 92 رنز بنا کر نمایاں رہے اور سنچری سے صرف آٹھ رنز دور رہ گئے۔ کاویم ہوج نے 84 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی، تاہم پاکستانی بولرز نے دوسرے روز شاندار کم بیک کرتے ہوئے میزبان ٹیم کی آخری پانچ وکٹیں صرف 54 رنز پر حاصل کر لیں۔
پاکستان کی جانب سے محمد علی سب سے کامیاب بولر رہے، جنہوں نے عمدہ لائن و لینتھ کے ساتھ بولنگ کرتے ہوئے 50 رنز کے عوض 4 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ خرم شہزاد نے اہم مواقع پر وکٹیں لے کر ویسٹ انڈیز کو بڑے اسکور سے محروم رکھا۔
اب تیسرے روز پاکستان کی کوشش ہوگی کہ پہلی اننگز میں برتری حاصل کر کے میچ پر مکمل کنٹرول قائم کرے، جبکہ ویسٹ انڈیز کو جلد از جلد شان مسعود کی وکٹ حاصل کر کے واپسی کی امید برقرار رکھنا ہوگی۔











