جہاں ایک طرف سوشل میڈیا پر اثر و رسوخ رکھنے والے افراد اور بائیو ہیکرز مختلف طریقوں سے انسان کو لافانی بنانے اور عمر کو غیر معمولی حد تک بڑھانے کے دعوے کر رہے ہیں، وہیں ایک نئی سائنسی تحقیق نے ان بلند بانگ دعوؤں کی حقیقت واضح کر دی ہے۔
مشہور سائنسی جریدے این پی جے ایجنگ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق انسان کی زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 146 سے 194 سال کے درمیان ہی ہو سکتی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ انسان کے بوڑھے ہونے کے درجن بھر اسباب میں سے سب سے اہم عنصر سوماٹک میوٹیشنز ہے۔ یہ وہ جینیاتی تبدیلیاں اور خامیوں کا مجموعہ ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے جسم کے خلیات (سواۓ تولیدی خلیات کے) میں خود بخود یا باہر کے ماحول (مثلاً سگریٹ کے دھوئیں یا الٹرا وائلٹ شعاعوں) کی وجہ سے پیدا ہوتی رہتی ہیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ جسم میں اتنی جینیاتی تبدیلیاں جمع ہو جاتی ہیں کہ خلیات کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے اور جسم ان غلطیوں کو درست کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
سائنسدانوں نے ایک ریاضیاتی ماڈل کے ذریعے حساب لگایا کہ اگر انسان بڑھاپے کی تمام تر دیگر بیماریوں اور وجوہات پر قابو پا بھی لے، تب بھی صرف ان جینیاتی خرابیوں (سوماٹک میوٹیشنز) کی موجودگی میں انسان کی اوسط عمر 146 سے 194 سال کے درمیان ہی رہے گی جو کہ موجودہ عالمی اوسط عمر (تقریباً 79 سال) سے محض دگنی ہے۔
تحقیق کے دوران یہ ایک انتہائی دلچسپ حقیقت سامنے آئی کہ جسم کے مختلف اعضاء ان جینیاتی خرابیوں کا مقابلہ مختلف انداز میں کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر جگر کے خلیات میں دوبارہ بننے کی اتنی صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ 1 لاکھ سال تک زندہ رہ سکتے ہیں۔
اس کے برعکس، دل کے درمیانی حصے اور دماغ کے خلیات ایک خاص مرحلے کے بعد تقسیم ہونا بند ہو جاتے ہیں۔ یعنی اگر ان خلیات میں جینیاتی نقص آ جائے تو جسم ان کی جگہ نئے خلیات نہیں بنا سکتا۔ اسی وجہ سے بالآخر دل اور دماغ ناکارہ ہو جاتے ہیں جو انسان کی موت کا سبب بنتے ہیں۔ محققین نے ان دونوں اعضاء کو انسانی عمر کا سب سے بڑا رکاوٹی نکتہ قرار دیا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ فی الحال سوماٹک میوٹیشنز کا کوئی طبی علاج یا تدبیر موجود نہیں ہے، اس لیے لافانی ہونے کی کوششوں کے بجائے انسان کو اپنی موجودہ صحت بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔
ماہرین کے مطابق سگریٹ نوشی سے مکمل پرہیز ، روزمرہ کی زندگی میں جسمانی تحرک اور ورزش کو برقرار رکھنا، متوازن اور قدرتی خوراک کا استعمال، نیند کا خاص خیال رکھنا اور ذہنی تناؤ کو کم کرنا اور مضبوط سماجی تعلقات استوار رکھنا ہی لمبی اور تواناں زندگی کے لیے سب سے زیادہ موثر ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف ان بنیادی اصولوں پر سختی سے عمل پیرا ہو کر انسان اپنی صحت مند زندگی میں 10 سے 20 سال کا اضافی اضافہ کر سکتا ہے۔











