اہم ترین

ٹرمپ کا ایران میں زمینی فوجی کارروائی پرغور: جرمن نیوز ایجنسی کا پاکستانی ذرائع سے دعویٰ

جرمن نیوز ایجنسی نے پاکستانی انٹیلیجنس اداروں کے بعض باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں محدود پیمانے پر زمینی فوجی کارروائی کا حکم دینے پر غور کر سکتے ہیں۔ یہ دعویٰ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کی ایک رپورٹ میں سامنے آیا ہے۔

جرمن نیوز ایجنسی ڈی ڈبلیو کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی انٹیلیجنس کے کم از کم دو اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انہیں ایسے اشارے ملے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساحلی علاقوں میں محدود فوجی آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس ممکنہ کارروائی کا مقصد ایران کے ساحلی حصے کا ملک کے دیگر علاقوں سے رابطہ منقطع کرنا ہو سکتا ہے، تاکہ کسی ممکنہ امن معاہدے سے قبل تہران پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔

ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ کو اس معاملے پر اندرونِ ملک سیاسی دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ امریکی فوج کے بعض اعلیٰ حکام بھی انہیں ایسی کارروائی سے گریز کا مشورہ دے چکے ہیں۔ ان کے مطابق خطے میں امریکی فوجیوں کی نقل و حرکت، عسکری تیاریاں اور سخت بیانات ممکنہ فوجی کارروائی کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

دوسری جانب دفاعی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں کسی بھی زمینی فوجی مداخلت کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق امریکی افواج کو ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈے بھی مکمل تحفظ فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ برطانیہ کے دفاعی ادارے آئی آئی ایس ایس ؤ کے اندازوں کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 6 لاکھ 10 ہزار فعال فوجی اور نیم فوجی اہلکار موجود ہیں، جبکہ تقریباً ساڑھے 3 لاکھ ریزرو اہلکار بھی دستیاب ہیں۔

ادھر پاکستانی انٹیلیجنس ذرائع کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان پس پردہ سفارتی رابطے بھی جاری ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان نئی جنگ بندی یا فائر بندی کی تجاویز پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے

پاکستان