اہم ترین

یورپی یونین کا نیا قانون:اب اے آئی سے بنے ہر مواد پر لیبل لازمی

یورپی یونین نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ مواد، خاص طور پر ڈیپ فیک تصاویر، ویڈیوز، آڈیو اور تحریروں کی شناخت کے لیے سخت شفافیت کے نئے قوانین نافذ کر دیے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق یورپی یونین کے جامع آرٹیفیشل انٹیلی جنس قانون کے تحت اب کمپنیوں کے لیے لازم ہوگا کہ وہ صارفین کو واضح طور پر بتائیں کہ کوئی چیٹ بوٹ اے آئی پر مبنی ہے یا کوئی تصویر، ویڈیو یا متن مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔

نئے قواعد کے تحت اے آئی سے بنائے گئے مواد پر واٹر مارکس یا دیگر شناختی علامات شامل کرنا ہوں گی تاکہ صارفین آسانی سے معلوم کر سکیں کہ مواد اصلی ہے یا مصنوعی طریقے سے تیار کیا گیا ہے۔ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کو بھاری جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یورپی یونین کے ایک عہدیدار نے کہا کہ جنریٹو اے آئی نے غلط معلومات پھیلانے کے عمل کو پہلے سے کہیں زیادہ تیز اور وسیع بنا دیا ہے، کیونکہ اب مخصوص افراد یا گروہوں کو ہدف بنا کر مواد تیار کرنا آسان ہو گیا ہے۔

یورپی حکام کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی کی تیزی سے ترقی کے باعث لوگوں کے لیے حقیقی اور مصنوعی مواد میں فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، اس لیے نئے قوانین کا مقصد شہریوں کا آن لائن معلومات پر اعتماد برقرار رکھنا ہے۔

خاص طور پر ڈیپ فیک ٹیکنالوجی یورپی یونین کے لیے تشویش کا باعث ہے، جس میں اے آئی کی مدد سے ایسے جعلی ویڈیوز، تصاویر، آوازیں یا تحریریں تیار کی جاتی ہیں جو بظاہر حقیقی محسوس ہوتی ہیں۔

یہ قوانین پیشہ ورانہ مقاصد کے لیے تیار کیے گئے مواد پر لاگو ہوں گے، جبکہ ذاتی استعمال کے لیے اے آئی استعمال کرنے والے افراد کو اس سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ اسی طرح عوامی اہمیت کے موضوعات پر تیار کردہ معلوماتی مواد بھی لیبل کرنا ہوگا اگر وہ انسانی ادارت کے بغیر اے آئی کے ذریعے تیار کیا گیا ہو۔

موجودہ اے آئی نظاموں کو نئے ضوابط کے مطابق ڈھالنے کے لیے 2 دسمبر تک وقت دیا گیا ہے، جبکہ فنکارانہ، تخلیقی، طنزیہ اور افسانوی کاموں کے لیے کچھ استثنیٰ رکھے گئے ہیں۔

یورپی یونین کے سخت قوانین پر کچھ کاروباری حلقوں نے خدشات کا اظہار کیا ہے، تاہم بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں پہلے ہی اے آئی مواد کی شناخت کے لیے اپنے اقدامات شروع کر چکی ہیں۔

ٹک ٹاک کئی برسوں سے اے آئی سے تیار کردہ تصاویر، آڈیو اور ویڈیوز کو لیبل کرنے کا نظام استعمال کر رہا ہے، جبکہ میٹا نے فیس بک اور انسٹاگرام پر “اے آئی انفارمیشن” لیبل متعارف کرا رکھا ہے۔

گوگل نے بھی اے آئی شفافیت سے متعلق یورپی ضابطہ اخلاق پر دستخط کیے ہیں اور ڈیجیٹل ٹیگنگ ٹیکنالوجی کے لیے دیگر کمپنیوں کے ساتھ کام کر رہا ہے۔

تاہم گوگل کی نمائندہ کیرن ماسن نے خبردار کیا ہے کہ حد سے زیادہ پیچیدہ ضابطے صارفین کے لیے الجھن پیدا کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر آن لائن مواد پر بہت زیادہ اے آئی لیبلز اور قانونی وضاحتیں شامل ہو گئیں تو لوگوں کے لیے اصل معلومات کو سمجھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

پاکستان