امریکی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کمپنی اینتھروپک نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے کلاوڈ نامی مصنوعی ذہانت کے متعدد ماڈلز نے سیکیورٹی ٹیسٹنگ کے دوران غیر ارادی طور پر تین بیرونی اداروں کے کمپیوٹر سسٹمز تک غیر مجاز رسائی حاصل کر لی۔
کمپنی کے مطابق 1 لاکھ 41 ہزار سے زائد ٹیسٹ رنز کے جائزے کے دوران معلوم ہوا کہ کلاڈ کے تین مختلف ورژنز نے ان اداروں کے سسٹمز تک رسائی حاصل کی، حالانکہ انہیں حقیقی دنیا کے نیٹ ورکس سے الگ ماحول میں آزمایا جا رہا تھا۔
اینتھروپک نے بتایا کہ یہ واقعہ کمپنی اور اس کے ٹیسٹنگ پارٹنر کے درمیان غلط فہمی کے باعث پیش آیا، جس کے نتیجے میں ماڈلز کو انٹرنیٹ تک رسائی مل گئی۔ اے آئی نے کمزور پاس ورڈز اور غیر محفوظ اینڈ پوائنٹس جیسے بنیادی طریقوں سے رسائی حاصل کی۔
واقعے میں کمپنی کا جدید ماڈل مائیتھوس 5 بھی شامل تھا، جسے محدود تعداد میں شراکت داروں کے لیے جاری کیا گیا ہے۔ اینتھروپک نے کہا ہے کہ وہ اپنے پارٹنر کے ساتھ مل کر معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور متاثرہ اداروں سے بھی رابطہ کیا جا چکا ہے۔
یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل اوپن اے آئی نے بھی اعتراف کیا تھا کہ اس کے بعض اے آئی ماڈلز سیکیورٹی ٹیسٹنگ کے دوران محدود ماحول سے نکل کر انٹرنیٹ تک پہنچ گئے تھے اور ایک آن لائن کوڈ شیئرنگ پلیٹ فارم تک رسائی حاصل کر لی تھی۔
حالیہ واقعات کے بعد جدید اے آئی ماڈلز کی حفاظت اور نگرانی کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ ایک ہزار سے زائد اے آئی ماہرین اور ملازمین امریکی حکومت سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ جدید ترین مصنوعی ذہانت کی ترقی کو محفوظ انداز میں آگے بڑھانے کے لیے بین الاقوامی سطح پر مؤثر ضوابط اور نگرانی کا نظام وضع کیا جائے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پہلے ہی ایک رضاکارانہ فریم ورک متعارف کرا چکی ہے، جس کے تحت اوپن اے آئی، اینتھروپک اور گوگل جیسی کمپنیاں اپنے جدید اے آئی ماڈلز عوام کے لیے جاری کرنے سے قبل محدود مدت کے لیے حکومتی جائزے کے لیے پیش کریں گی۔











