انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کے مردوں کی کرکٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر روب کی نے سابق ٹیسٹ کپتان بین اسٹوکس کی بین الاقوامی کرکٹ میں ممکنہ واپسی کا امکان ظاہر کر دیا ہے، جس کے بعد انگلش کرکٹ میں اسٹوکس کی واپسی سے متعلق قیاس آرائیاں ایک بار پھر زور پکڑ گئی ہیں۔
روب کی نے یہ بیان اس موقع پر دیا جب ای سی بی نے نیوزی لینڈ کے سابق کپتان اسٹیفن فلیمنگ کو انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کا نیا ہیڈ کوچ مقرر کرنے کی تصدیق کی۔ فلیمنگ کی تقرری اور جو روٹ کی دوبارہ ٹیسٹ کپتانی سنبھالنے کے فیصلے کے بعد انگلش کرکٹ میں ایک نئے دور کا آغاز متوقع ہے۔
یاد رہے کہ 35 سالہ بین اسٹوکس نے جون کے آخر میں نیوزی لینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ کے دوران اچانک بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا تھا۔ اس سے قبل انہیں لندن کے ایک نائٹ کلب میں ٹیم کرفیو کی خلاف ورزی پر دوسرے ٹیسٹ سے بھی ڈراپ کیا گیا تھا، جو انگلینڈ کے کھلاڑیوں سے متعلق آف دی فیلڈ واقعات کی ایک کڑی تھی۔
اسٹوکس کی ریٹائرمنٹ کے دو ہفتے بعد ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ برینڈن میک کولم کو بھی ریڈ بال کوچنگ سے ہٹا دیا گیا، جس کے ساتھ ہی جارحانہ اندازِ کھیل پر مبنی مشہور “بازبال” دور کا اختتام ہو گیا۔ تاہم میک کولم بدستور انگلینڈ کی وائٹ بال ٹیموں کے ہیڈ کوچ رہیں گے۔
لارڈز میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے روب کی نے کہا کہ اس وقت بین اسٹوکس کی واپسی پر کوئی باضابطہ بات نہیں ہوئی، لیکن اگر وہ دوبارہ کھیلنے کا فیصلہ کریں تو یہ کرکٹ کی ایک شاندار کہانی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹوکس کے معاملے میں کچھ بھی ممکن ہے اور ان کے لیے واپسی کے تمام راستے اب بھی کھلے ہیں۔
دوسری جانب اسٹیفن فلیمنگ ستمبر میں انگلینڈ پہنچیں گے، اس لیے وہ اگست میں پاکستان کے خلاف ہونے والی تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں ٹیم کی کوچنگ نہیں کر سکیں گے۔ روب کی نے کہا کہ بہترین کوچ کا انتخاب ان کی اولین ترجیح تھا، اس لیے پاکستان سیریز میں دستیابی کو تقرری کی شرط نہیں بنایا گیا۔











