عالمی ہفتۂ رضاعت (1 تا 7 اگست) کے موقع پر ایک بار پھر یہ سوال توجہ کا مرکز بن گیا ہے کہ جدید سائنس اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں غیرمعمولی ترقی کے باوجود ماں کے دودھ جیسا مکمل متبادل لیبارٹری میں کیوں تیار نہیں کیا جا سکا۔
ماہرین کے مطابق دنیا بھر کی جامعات، بایوٹیک کمپنیاں اور تحقیقی ادارے کئی دہائیوں سے اس پر کام کر رہے ہیں، مگر اب تک کوئی بھی مصنوعی فارمولا ماں کے دودھ کی مکمل نقل بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ماں کا دودھ صرف غذائیت فراہم نہیں کرتا بلکہ اس میں ایسے زندہ خلیات، اینٹی باڈیز، ہارمونز، فعال اینزائمز اور مدافعتی اجزا موجود ہوتے ہیں جو نومولود بچے کے جسم کو انفیکشن سے بچانے اور اس کے مدافعتی نظام کی نشوونما میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی خصوصیات اسے عام فارمولا دودھ سے منفرد بناتی ہیں۔
تحقیق کے مطابق ماں کے دودھ میں ہیومن ملک اولیگوسیکرائیڈز (ایچ ایم اوز) نامی 200 سے زائد پیچیدہ شوگر مالیکیولز پائے جاتے ہیں، جو بچے کی آنتوں میں مفید بیکٹیریا کی افزائش میں مدد دیتے ہیں اور نقصان دہ جراثیم کو جسم سے چمٹنے سے روکتے ہیں۔ ان پیچیدہ مالیکیولز کو صنعتی پیمانے پر تیار کرنا آج بھی سائنس کے لیے انتہائی مشکل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک اور بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ماں کا دودھ ہر عورت میں مختلف ہوتا ہے، بلکہ ایک ہی ماں کے دودھ کی ساخت وقت، بچے کی عمر اور حتیٰ کہ ہر فیڈ کے دوران بھی تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ اس پر جینیاتی عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ہر ماں کا دودھ اپنے بچے کی ضروریات کے مطابق منفرد خصوصیات رکھتا ہے۔
اسی کے برعکس، فارمولا دودھ ایک مقررہ ترکیب کے مطابق تیار کیا جاتا ہے اور اسے طویل عرصے تک محفوظ رکھنے کے لیے اس انداز میں پروسیس کیا جاتا ہے کہ اس میں کوئی زندہ خلیہ یا حساس حیاتیاتی جز باقی نہ رہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سائنس دان جینیاتی انجینئرنگ اور جدید حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے ذریعے فارمولا دودھ کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم موجودہ سائنسی معلومات کے مطابق ماں کے دودھ کی مکمل اور حقیقی نقل تیار کرنا ابھی ممکن نہیں۔
طبی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جہاں ممکن ہو، نومولود بچوں کے لیے ماں کا دودھ ہی بہترین غذا ہے، جبکہ فارمولا دودھ ان حالات میں ایک متبادل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جب دودھ پلانا ممکن نہ ہو یا طبی ضرورت موجود ہو۔











