پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) نے ایک بار پھر حکومت سے ملک میں موجود فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے پی ایس ایم اے نے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی رانا تنویر حسین کو خطوط ارسال کر دیے ہیں۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر 5 لاکھ 85 ہزار میٹرک ٹن سرپلس چینی کی برآمد کی اجازت دے تاکہ ملکی شوگر انڈسٹری اور گنے کے کاشتکاروں کو ممکنہ مشکلات سے بچایا جا سکے۔
پی ایس ایم اے کے مطابق اس وقت ملک میں 34 لاکھ میٹرک ٹن چینی کے ذخائر موجود ہیں، جبکہ ملک میں چینی کی اوسط ماہانہ کھپت تقریباً 5 لاکھ 67 ہزار میٹرک ٹن ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ نومبر میں نئے کرشنگ سیزن کے آغاز تک بھی 11 لاکھ 58 ہزار میٹرک ٹن چینی کا بڑا ذخیرہ موجود ہوگا۔
شوگر ملز کے مطابق آئندہ کرشنگ سیزن میں گنے کی بمپر فصل متوقع ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں تقریباً 80 لاکھ میٹرک ٹن چینی پیدا ہونے کا امکان ہے، جو ملکی ضرورت سے کہیں زیادہ ہوگی۔
ایسوسی ایشن نے اپنے خطوط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ستمبر میں گنے کی نئی کاشت کا وقت قریب ہے، تاہم چینی کی برآمد میں تاخیر کے باعث کاشتکار غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ اگر اضافی چینی برآمد نہ کی گئی تو کسان نئی فصل کی کاشت کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کر سکتے ہیں۔
پی ایس ایم اے نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ اسٹریٹجک ذخائر کے لیے مختص چینی کو کرشنگ سیزن شروع ہونے کے ایک ماہ کے اندر برآمد کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ نئے سیزن میں اضافی پیداوار اور ذخیرہ کرنے کے مسائل سے بچا جا سکے۔










